رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 23° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:10مغرب 17:47عشا 19:08
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
آئی سی سی ون ڈے رینکنگ: ٹاپ 5 بیٹرز میں پاکستانی شامل نہیں، بابراعظم نویں نمبر پر چلے گئےاٹھائیسویں ترمیم کا مسودہ تیار نہیں ہوا، تمام جماعتوں سے مشاورت ہوگی: اعظم نذیر تارڑگندم کی دستیابی اور درآمدی منصوبہ بندی پر سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رکھنے کی ہدایتچین دوستی ہاکی سیریز: پاکستان جونیئر ٹیم نے گوانگ ڈونگ کو 5-2 سے ہرا دیاکیپ ٹاؤن ٹیسٹ: اسٹارک کی 72 رنز کے عوض 6 وکٹیں، جنوبی افریقا 329 پر آؤٹوزیر دفاع خواجہ آصف کی سعودی سفیر سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیالخیبرپختونخوا میں گورنر راج چھ ماہ بعد ختم ہوگا، امن بحال ہونے تک ایمرجنسی رہے گی: طارق فضل چوہدریریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی اور دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاریمحمد احمد: پہلی ٹیلی فلم پر پابندی نے کیریئر کا رخ بدل دیاگلوبل لیزر رن: سی ایم پنجاب سپورٹس اکیڈمیز کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں تقریبمیری کوم: ان کی بائیوپک میں جدوجہد کا صرف 10 فیصد دکھایا گیاحارث رؤف کو 20 فیصد اور انگلینڈ کو 15 فیصد جرمانہ

محمد احمد: پہلی ٹیلی فلم پر پابندی نے کیریئر کا رخ بدل دیا

محمد احمد: پہلی ٹیلی فلم پر پابندی نے کیریئر کا رخ بدل دیا
فائل فوٹو: اداکار و ڈرامہ نگار محمد احمد — تصویر: بشکریہ tribune.com.pk

اسلام آباد: پاکستان کے سینئر اداکار اور ڈرامہ نگار محمد احمد نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی پہلی ٹیلی فلم کا سکرپٹ لکھنے سے انہیں روک دیا گیا تھا، جس نے بعد میں ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا۔

وہ حال ہی میں ایک یوٹیوب شو میں شریک ہوئے، جہاں انہوں نے اپنے کیریئر کے ابتدائی دور کا ایک دلچسپ واقعہ بیان کیا۔

محمد احمد کے مطابق ٹیلی وژن میں آنے سے پہلے انہوں نے شیما کرمانی کے لیے ایک اسٹیج ڈرامہ لکھا تھا۔ شیما کرمانی نے اسکرپٹ کو سراہا اور خالد صاحب کو دکھایا، تاہم انہوں نے اسے ٹیلی وژن کے لیے ناموزوں قرار دیا۔ دونوں کے درمیان بحث کے بعد اسکرپٹ غضنفر علی کو بھیج دیا گیا۔

اداکار نے بتایا کہ ان کی پہلی ٹیلی فلم عورت اپنے دور کے لحاظ سے انتہائی جرات مندانہ موضوع پر مبنی تھی، مگر ان پر پابندی عائد کر دی گئی۔ خالد صاحب نے بھی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مجھ پر اعتماد کر کے ڈرامہ بنوایا تھا، لیکن اس کے نتیجے میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق نشر ہونے کے بعد یہ ڈرامہ انتہائی کامیاب ثابت ہوا اور اس نے ان کے کیریئر کا رخ بدل دیا۔ کہانی میں ایک ایسی عورت کی زندگی دکھائی گئی تھی جو معاشرتی دباؤ کے باعث ایک بدنام کاروبار میں دھکیل دی جاتی ہے، جبکہ حلالے جیسے موضوع کو بھی ڈرامے میں شامل کیا گیا تھا۔

محمد احمد نے کہا کہ اس دور میں ایسے موضوعات پر بات کرنا ممنوع سمجھا جاتا تھا، تاہم انہوں نے انہیں پیش کرنے کے لیے ایک خاص اور متوازن انداز اپنایا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اب وہ ٹیلی وژن کے لیے سکرپٹ لکھنا چھوڑ چکے ہیں، کیونکہ موجودہ دور میں نشر ہونے والے مواد جیسا مواد وہ نہیں لکھ سکتے۔