کیپ ٹاؤن ٹیسٹ: اسٹارک کی 72 رنز کے عوض 6 وکٹیں، جنوبی افریقا 329 پر آؤٹ

کیپ ٹاؤن: آسٹریلیا کے فاسٹ بولر مچل اسٹارک نے جنوبی افریقا کے خلاف تیسرے ٹیسٹ کے پہلے دن 72 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں اور میزبان ٹیم کو 329 رنز پر آؤٹ کر دیا۔ یہ ٹیسٹ کیریئر میں ان کی 20ویں اننگز ہے جس میں انہوں نے پانچ یا زائد وکٹیں لیں۔
اس کارنامے کے ساتھ اسٹارک نیوزی لینڈ کے سابق کپتان ڈینیئل ویٹوری کے برابر آ گئے۔ بنگلادیش کے شکیب الحسن اور تیج الاسلام 19، 19 مرتبہ یہ کارنامہ انجام دے چکے ہیں۔ بائیں ہاتھ کے بولرز میں صرف سری لنکا کے رنگانا ہیراتھ (34) اور پاکستان کے وسیم اکرم (25) ان سے آگے ہیں۔ پتریکا نیوز کے مطابق اسٹارک آسٹریلیا کے چھٹے بولر ہیں جنہوں نے یہ سنگِ میل عبور کیا، اس سے قبل شین وارن، گلین میک گراتھ، نیتھن لیون، ڈینس للی اور کلیری گرمیٹ یہ اعزاز حاصل کر چکے ہیں۔
سڈنی مارننگ ہیرالڈ کے مطابق کپتان پیٹ کمنز نے ٹاس جیت کر ایک بہت سپاٹ نظر آنے والی وکٹ پر جنوبی افریقا کو بیٹنگ کی دعوت دی۔ اسٹیو اسمتھ کی دستیابی ختم ہونے پر جوش انگلس کو ٹیم میں شامل کرنا پڑا۔ سیریز کے دوران ایک ہی ٹیسٹ میں چار تبدیلیاں 2018 کے آخری ٹیسٹ کے بعد پہلی بار کرنا پڑیں۔ اسکاٹ بولینڈ کو باہر رکھا گیا۔
مارکس ایکرمین اور ایڈن مارکرم نے آغاز میں آسانی سے رنز بنائے اور لنچ تک اسکور بغیر کسی نقصان کے 140 رنز تھا۔ پتریکا کے مطابق پہلی وکٹ پر 158 رنز کی شراکت قائم ہوئی۔ ایکرمین 95 پر پہنچے تو نیتھن لیون کی تیز اور باہر جاتی گیند پر وکٹ کیپر ایلکس کیری کو کیچ دے بیٹھے۔ لیون نے کپتان ٹیمبا باووما کو بھی ہوا میں بھٹکتی گیند پر بولڈ کیا، جو آف اسٹمپ کا کنارہ چھوتی ہوئی نکل گئی۔
جنوبی افریقا کا اسکور 327 رنز پر 6 کھلاڑی آؤٹ تھا کہ اسٹارک نے صرف چھ گیندوں میں چار وکٹیں لے کر اننگز سمیٹ دی۔ ہیرالڈ نے اسے نو گیندوں میں چار وکٹیں لکھا ہے۔ اسٹارک نے دن کے کھیل کے بعد کہا کہ پہلا سیشن بھلا دینا چاہیے، لنچ کے بعد ٹیم نے درست لائن پکڑی۔ ان کے مطابق سیریز میں کئی چیزیں ٹھیک محسوس نہیں ہو رہی تھیں، اس لیے انہوں نے گزشتہ شب کوچ جیمز فرینکلن اور اینڈریو میکڈونلڈ سے مشورہ کیا، اور اہلیہ ایلیسا ہیلی نے بھی ان کی بولنگ دیکھی تھی۔
اسٹارک نے کہا کہ ٹیم کے بیشتر کھلاڑی اتنا عرصہ کھیل چکے ہیں کہ دورانِ میچ مسائل حل کر لیتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ نئی گیند سے پہلے گھنٹے میں سوئنگ مل جاتی تو بہتر ہوتا۔ نیوکیسل کے میدان میں 11,028 تماشائی موجود تھے۔











