رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 23° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:10مغرب 17:47عشا 19:08
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
آئی سی سی ون ڈے رینکنگ: ٹاپ 5 بیٹرز میں پاکستانی شامل نہیں، بابراعظم نویں نمبر پر چلے گئےاٹھائیسویں ترمیم کا مسودہ تیار نہیں ہوا، تمام جماعتوں سے مشاورت ہوگی: اعظم نذیر تارڑگندم کی دستیابی اور درآمدی منصوبہ بندی پر سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رکھنے کی ہدایتچین دوستی ہاکی سیریز: پاکستان جونیئر ٹیم نے گوانگ ڈونگ کو 5-2 سے ہرا دیاکیپ ٹاؤن ٹیسٹ: اسٹارک کی 72 رنز کے عوض 6 وکٹیں، جنوبی افریقا 329 پر آؤٹوزیر دفاع خواجہ آصف کی سعودی سفیر سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیالخیبرپختونخوا میں گورنر راج چھ ماہ بعد ختم ہوگا، امن بحال ہونے تک ایمرجنسی رہے گی: طارق فضل چوہدریریڈیو پاکستان حملہ کیس: سہیل آفریدی اور دیگر کے وارنٹ گرفتاری جاریمحمد احمد: پہلی ٹیلی فلم پر پابندی نے کیریئر کا رخ بدل دیاگلوبل لیزر رن: سی ایم پنجاب سپورٹس اکیڈمیز کے کھلاڑیوں کے اعزاز میں تقریبمیری کوم: ان کی بائیوپک میں جدوجہد کا صرف 10 فیصد دکھایا گیاحارث رؤف کو 20 فیصد اور انگلینڈ کو 15 فیصد جرمانہ

لاہور ہائیکورٹ کے جج محسن اختر کیانی کا استعفیٰ، آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار

لاہور ہائیکورٹ کے جج محسن اختر کیانی کا استعفیٰ، آئینی ترامیم پر تحفظات کا اظہار
فائل فوٹو: جسٹس محسن اختر کیانی — تصویر: بشکریہ pakistantoday.com.pk

لاہور: لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس محسن اختر کیانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ صدرِ پاکستان کو ارسال کیے گئے استعفیٰ میں انہوں نے ذاتی وجوہات، حالیہ سرجری کے بعد صحت کے مسائل اور اپنے ضمیر کی آواز کو اس فیصلے کی بنیاد قرار دیا ہے۔

بی بی سی کے مطابق صدرِ مملکت کو 28 اکتوبر 2026ء کو بھجوائے گئے استعفیٰ میں جسٹس کیانی نے کہا کہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور لاہور ہائیکورٹ میں خدمات انجام دینا ان کے لیے اعزاز کی بات رہی۔ اپنے عدالتی دور میں انہوں نے مختلف نوعیت کے 23 ہزار سے زیادہ مقدمات نمٹائے اور ہمیشہ آئین کی بالادستی، بنیادی حقوق کے تحفظ اور بلا خوف و امتیاز انصاف کی فراہمی کی کوشش کی۔

ہائیکورٹس کی خودمختاری پر تحفظات

استعفیٰ میں انہوں نے موقف اختیار کیا کہ ان کی رائے میں 26ویں اور 27ویں آئینی ترامیم کے ذریعے متعارف کروائی گئی تبدیلیوں نے ہائیکورٹس کی خودمختاری اور ادارہ جاتی سالمیت کو متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق عدلیہ کے اداروں پر ایگزیکٹو کا بڑھتا ہوا اثر و رسوخ ججوں کی تقرری اور تبادلوں تک پھیل چکا ہے، جس نے عدلیہ کی آزادی اور عدالتی عمل کی غیر جانبداری پر عوامی اعتماد کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

انہوں نے عام سائلین کی صورتحال پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ نظامِ انصاف کے اصل فریق عام سائلین ہوتے ہیں، جن کی مشکلات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ اس نظام کے ثمرات دیگر حلقوں کو حاصل ہو رہے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ موجودہ حالات میں ان کا ضمیر انہیں عدالتی منصب پر برقرار رہنے کی اجازت نہیں دیتا۔

جسٹس محسن اختر کیانی کے مطابق یہ ایک تکلیف دہ فیصلہ ہے، تاہم ان کا خیال ہے کہ عدالتی عہدہ آزادی، آئین سے وفاداری اور انسانی وقار کے تحفظ سے الگ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اب وکالت کے شعبے میں واپس جانا چاہتے ہیں، جہاں وہ عوامی حقوق کے تحفظ اور قانونی آگاہی کے فروغ کے لیے خدمات جاری رکھیں گے۔

تبادلے اور تعیناتی کا پس منظر

جسٹس محسن اختر کیانی نے بطور جج اپنے کیریئر کا آغاز اسلام آباد ہائیکورٹ سے کیا تھا اور وہ جسٹس عامر فاروق کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کے سینئر ترین جج تھے۔ جسٹس عامر فاروق کے سپریم کورٹ جانے کے بعد ان کے اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بننے کے امکانات روشن ہو گئے تھے، تاہم آئینی ترمیم کے بعد ججوں کے تبادلوں کے دوران لاہور ہائیکورٹ کے جج جسٹس سرفراز ڈوگر کو اسلام آباد ہائیکورٹ کا چیف جسٹس بنا دیا گیا۔

جسٹس کیانی ان تین ججوں میں شامل ہیں جن کا اسلام آباد ہائیکورٹ سے دیگر صوبائی عدالتوں میں تبادلہ کیا گیا تھا۔ وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی سنیارٹی لسٹ میں دوسرے اور لاہور ہائیکورٹ میں دسویں نمبر پر تھے۔ نئے ججز روسٹر میں ان کا تبادلہ راولپنڈی بینچ میں کیا گیا تھا، جہاں انہوں نے دو نومبر سے مقدمات کی سماعت کرنا تھی۔ وہ 11 فروری 2032ء کو ریٹائر ہونے والے تھے۔

موضوعات: