گندم کی دستیابی اور درآمدی منصوبہ بندی پر سٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس، آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رکھنے کی ہدایت

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے بدھ کو گندم سے متعلق سٹیئرنگ کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کی۔ اجلاس میں ملک بھر میں اناج کی مجموعی دستیابی کا جائزہ لیا گیا اور مقامی رسد کو مستحکم رکھنے کے لیے گندم کی درآمدی منصوبہ بندی کا بھی جائزہ لیا گیا۔ یہ تفصیلات نائب وزیراعظم آفس کی جاری کردہ پریس ریلیز میں بتائی گئیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ گندم کے وافر ذخائر برقرار رکھنا اور اناج کی فراہمی میں تعطل سے بچنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق عوام کو ضروری غذائی اجناس مناسب قیمتوں پر دستیاب رکھنے کے لیے وفاقی اور صوبائی اداروں کے درمیان مؤثر رابطہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ منڈی کے رجحانات پر کڑی نظر رکھی جائے، ملک بھر میں گندم کی مناسب فراہمی یقینی بنائی جائے اور آٹے کی قیمتوں میں کمی کا رجحان برقرار رہے۔
اجلاس میں وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین اور وزیراعظم کے معاون خصوصی طارق باجوہ شریک ہوئے۔ قومی غذائی تحفظ، تجارت اور بحری امور کے سیکریٹریز کے علاوہ تمام صوبوں اور متعلقہ وزارتوں و محکموں کے سینئر حکام بھی موجود تھے۔
ایکسپریس ٹریبیون کے مطابق ایک روز قبل رانا تنویر حسین نے بتایا تھا کہ وفاقی حکومت نے تقریباً چار دہائیوں بعد قومی گندم پالیسی تشکیل دی ہے اور گندم کی قیمت 4,500 روپے فی من مقرر کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس فیصلے سے پہلے تمام صوبائی حکومتوں سے مشاورت کی گئی۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ رواں سال چھ ملین میٹرک ٹن تک کے سٹریٹجک ذخائر رکھے جائیں گے تاکہ اناج کی بلا تعطل فراہمی ممکن رہے اور منڈی میں ممکنہ خلل سے تحفظ ملے۔
اسی اخبار کے مطابق کراچی پورٹ ٹرسٹ نے بتایا کہ 51 ہزار میٹرک ٹن گندم لے کر آنے والا جہاز ایم وی گوکووا ایم 28 اکتوبر 2026 کو دوپہر 1225 بجے کراچی بندرگاہ پہنچا۔ اسے برتھ 16 اور 17 پر لنگر انداز کیا گیا اور کارگو کراچی گیٹ وے ٹرمینل ملٹی پرپز لمیٹڈ پر اتارا گیا۔ ایک اور جہاز ایم وی گریٹ رینبو، جس پر 59,132.19 میٹرک ٹن گندم لدی ہے، 3 نومبر کو پہنچنے کی توقع ہے، جس کے بعد مجموعی کھیپ 110,000 میٹرک ٹن سے زائد ہو جائے گی۔











