وزیر دفاع خواجہ آصف کی سعودی سفیر سے ملاقات، دفاعی تعاون مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال

اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف سے سعودی عرب کے سفیر ڈاکٹر راجح تامی البغامی نے بدھ کو اسلام آباد میں ملاقات کی۔ ملاقات وزیر دفاع کے دفتر میں ہوئی، جس کے بعد جاری بیان میں بتایا گیا کہ دونوں جانب سے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

بیان کے مطابق فریقین نے دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے اور پاکستان و سعودی عرب کے دیرینہ برادرانہ تعلقات کو فروغ دینے کے طریقوں پر بات کی۔ ملاقات میں دونوں ممالک نے اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے اور باہمی مفاد پر مبنی تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
دنیا نیوز کی رپورٹ کے مطابق ملاقات میں موجودہ تعاون کو آگے بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا اور قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق ہوا۔ اسی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کسی نئے دفاعی معاہدے یا مخصوص فوجی اقدام کا اعلان نہیں کیا گیا۔
عرب نیوز پاکستان کے مطابق یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب فروری میں ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے شروع ہونے والی جنگ خطے میں پھیل چکی ہے۔ اخبار کے مطابق یمن کے ایران نواز حوثیوں نے سعودی عرب پر حملے تیز کر دیے ہیں، جن سے شہری ڈھانچے، توانائی کی تنصیبات اور جہاز رانی کو خطرات لاحق ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق دونوں ممالک نے 2025 میں دو طرفہ دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے، جبکہ اس کے بعد اگست میں ترکیہ کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پایا۔ اس سہ فریقی معاہدے میں کسی ایک رکن پر مسلح حملے کو تینوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔ اخبار نے مزید لکھا کہ رواں ماہ کے آغاز میں پاکستانی فوج نے مکہ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں فوجی دستے تعینات کرنے کی تصدیق کی تھی، جو تینوں اتحادیوں کے درمیان مشاورت کے بعد عمل میں آئی۔
اسی رپورٹ کے مطابق پیر کو پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے سینئر حکام نے تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کی، جہاں ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان دوبارہ بڑے پیمانے پر لڑائی کے خدشات زیر بحث تھے۔ چاروں ممالک نے علاقائی سلامتی پر مکالمہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، تاہم لڑائی روکنے کے لیے کسی مخصوص اقدام یا اگلی ملاقات کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سعودی عرب نے کہا کہ مذاکرات کا مقصد کشیدگی میں کمی اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا تھا۔











