پاک ایران سرحدی تجارت چوتھے روز بھی معطل، سینکڑوں کنٹینرز پھنس گئے

کوئٹہ: پاکستان اور ایران کے درمیان بلوچستان کی سرحدی گزرگاہوں سے ہونے والی تجارت چوتھے روز بھی معطل ہے۔ سرحد کے دونوں طرف سینکڑوں مال بردار کنٹینرز پھنس گئے ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام نے 17 اکتوبر کو گزرگاہیں بند ہونے کی تصدیق کی تھی اور اسے عارضی قرار دیا ہے۔
حکومتِ بلوچستان کے ترجمان اور وزیرِ اعلیٰ کے مشیر شاہد رند کے مطابق بندش کا مقصد سکیورٹی خدشات دور کرنا، سمگلنگ روکنا اور سرحدی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامی مسائل کے حل میں مثبت پیش رفت ہو رہی ہے اور گزرگاہیں جلد کھلنے کی توقع ہے۔ انھوں نے سوشل میڈیا کی افواہوں کو بے بنیاد قرار دیا۔
ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اسے غیر واضح تکنیکی مسائل کا نتیجہ بتایا، جن کے باعث فوری احتیاطی اقدامات ضروری تھے۔
اس سے ایک روز قبل، 16 اکتوبر کو پاکستان کی وزارتِ تجارت نے ایران سے درآمدات پر الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) سے استثنیٰ میں توسیع کا حکمنامہ منسوخ کر دیا تھا۔ یہ حکمنامہ تین اکتوبر کو جاری ہوا تھا۔ وزارت نے بی بی سی اردو کو منسوخی کی تصدیق کی۔
بارڈر ٹریڈرز ایسوسی ایشن کے صدر عبدالغفور ہوت کے مطابق سرکاری حکام نے سنیچر کو سرحد جلد کھلنے کی اطلاع دی تھی، مگر پیر کو تیسرے دن بھی تجارت بحال نہ ہو سکی۔ ان کا کہنا ہے کہ تاخیر سے تاجروں کو ناقابلِ تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔ انھوں نے تازہ پھل، خشک میوہ اور جلد خراب ہونے والی اشیا کی گاڑیوں کو گزرنے دینے کی اپیل کی تھی۔
گوادر چیمبر آف کامرس کے سابق صدر شمس الحق کے مطابق گبد ریمدان کراسنگ پر پاکستانی جانب تقریباً 1500 گاڑیاں کھڑی ہیں، جن میں سے چھ سے سات سو کو ایران کے راستے وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانا ہے۔ ان میں زیادہ تر چاول، جبکہ کچھ میں آلو اور کیلے لدے ہیں۔ ایرانی جانب ایل پی جی سے لدی گاڑیوں سمیت تقریباً تین ہزار کنٹینرز رکے ہوئے ہیں۔











