قصور: رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت اجلاس، ترقیاتی منصوبوں میں معیار پر سمجھوتہ نہ کرنے کی ہدایت

لاہور: صوبائی وزیر قانون پنجاب رانا محمد اقبال خان کی زیر صدارت ڈپٹی کمشنر آفس قصور کے کمیٹی روم میں ڈسٹرکٹ کوآرڈی نیشن کمیٹی کا اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا۔ اجلاس میں ضلع میں جاری ترقیاتی منصوبوں، عوامی سہولیات اور سرکاری محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں امن و امان، صفائی ستھرائی، نکاسی آب، صحت، تعلیم، مواصلات اور لوکل گورنمنٹ سمیت مختلف شعبوں کی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
شرکاء اور بریفنگ
اجلاس میں وفاقی وزیر مملکت برائے فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ ملک رشید احمد خان ایڈووکیٹ، ایم این اے رانا حیات خان، ارکان پنجاب اسمبلی ملک احمد سعید خان ایڈووکیٹ، چوہدری محمد الیاس خان، چوہدری محمود انور، چوہدری احسن رضا خان، ڈپٹی کمشنر قصور محمد آصف رضا، ڈی پی او قصور آفتاب احمد پھلروان، سابق ایم این اے چوہدری منظور احمد خان ایڈووکیٹ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنرز، چاروں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز، سول ڈیفنس، اینٹی نارکوٹکس، ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویلپمنٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ریسکیو 1122 اور دیگر محکموں کے سربراہان نے شرکت کی۔
ڈپٹی کمشنر محمد آصف رضا اور افسران نے پبلک پرائیویٹ ڈویلپمنٹ اسکیموں، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے منصوبوں، ہائی وے سیکٹر، واسا قصور، واٹر فلٹریشن پلانٹس، صحت مراکز، بنیادی و دیہی مراکز صحت کی ری ویمپنگ، تعلیمی اداروں، کھیلوں اور کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے منصوبوں پر بریفنگ دی۔ چاروں تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز نے بھی اپنے علاقوں میں اقدامات سے آگاہ کیا۔
اجلاس میں محکموں کے درمیان رابطہ کاری اور منصوبوں کی مؤثر نگرانی بہتر بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
وزیر قانون کی ہدایات
رانا محمد اقبال خان نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایت کے مطابق عوام کو بنیادی سہولیات کی فراہمی اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ان کے مطابق منصوبوں کا اصل مقصد عوام کو ریلیف دینا ہے، اس لیے تمام منصوبے مقررہ معیار کے مطابق مکمل ہوں اور غیر ضروری تاخیر نہ ہو۔
انہوں نے افسران کو ہدایت کی کہ پیش رفت کی باقاعدہ نگرانی کی جائے، معیار پر سمجھوتہ نہ ہو اور رکاوٹیں فوری دور کی جائیں۔ تمام محکمے دستیاب وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنائیں۔
انہوں نے صفائی اور نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے اداروں کو باہمی رابطے سے کام کرنے کی ہدایت کی۔ صحت اور تعلیم میں سروس ڈیلیوری بہتر بنانے، ہسپتالوں اور بنیادی مراکز صحت کی کارکردگی مانیٹر کرنے اور تعلیمی اداروں میں سہولیات بہتر بنانے پر بھی زور دیا۔
صوبائی وزیر قانون نے واضح کیا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں میں غفلت اور غیر ضروری تاخیر کی گنجائش نہیں۔ اجلاس کے اختتام پر ضروری ہدایات جاری کی گئیں اور مربوط اقدامات جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔











