ژوب اور شیرانی میں ایک ہفتے سے موبائل نیٹ ورک بند، تاجروں کا سروس بحال کرنے کا مطالبہ
ژوب: مرکزی انجمن تاجران کے ضلعی صدر باران خان کلیوال، جنرل سیکرٹری حاجی محمد دین خروٹی، سینئر نائب صدر حبیب الرحمن کاکڑ، میڈیا کوآرڈینیٹر عبدالغفور مندوخیل، تاجو شیرانی، نور خان لوون، یوسف لالا اور دیگر ساتھیوں نے کہا کہ ضلع ژوب اور ضلع شیرانی کے مختلف علاقوں میں گزشتہ ایک ہفتے سے موبائل نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث عوام کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
مقامی شہریوں کی شکایات کے مطابق نیٹ ورک کی بندش یا مسلسل عدم دستیابی نے روزمرہ زندگی کو متاثر کر دیا ہے، جبکہ کاروباری حضرات، طلبہ، اساتذہ اور دیگر شعبوں سے وابستہ افراد بھی اس صورتحال سے پریشان ہیں۔
کاروبار اور تعلیم متاثر
تاجروں کے مطابق موبائل نیٹ ورک آج کے دور میں کاروبار کی بنیادی ضرورت بن چکا ہے۔ دکانداروں، تاجروں، آن لائن کاروبار کرنے والوں اور دیگر کاروباری افراد کو گاہکوں سے رابطے، آرڈرز کی وصولی، ادائیگیوں اور کاروباری معاملات کی انجام دہی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ کاروباری رابطے متاثر ہونے سے مقامی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
موبائل انٹرنیٹ کی بندش سے طلبہ کی مشکلات میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ آن لائن تعلیمی مواد، لیکچرز، اسائنمنٹس، امتحانی معلومات اور دیگر تعلیمی ضروریات تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔ بالخصوص وہ طلبہ جو انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی تعلیم جاری رکھتے ہیں، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔
موبائل نیٹ ورک صرف بات چیت کا ذریعہ نہیں بلکہ روزگار، تعلیم، معلومات اور ہنگامی رابطوں کے لیے بھی انتہائی اہم ہے۔ نیٹ ورک کی عدم دستیابی کے باعث شہریوں کو اپنے عزیز و اقارب سے رابطے، ضروری معلومات کے حصول اور مختلف سرکاری و نجی امور کی انجام دہی میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔
مطالبہ
ژوب اور شیرانی کے عوام نے متعلقہ ٹیلی کام کمپنیوں، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) اور ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے جاری اس مسئلے کا فوری نوٹس لیا جائے، نیٹ ورک کی بندش کی وجوہات واضح کی جائیں اور متاثرہ علاقوں میں موبائل سروس اور انٹرنیٹ کی بحالی یقینی بنائی جائے۔
عوام کا کہنا ہے کہ جدید دور میں موبائل نیٹ ورک ایک بنیادی ضرورت بن چکا ہے، اس لیے شہریوں کو طویل عرصے تک رابطے کی سہولت سے محروم رکھنا ان کی روزمرہ زندگی، تعلیم اور کاروبار کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے۔
سوال یہ ہے کہ ژوب اور شیرانی کے عوام کو مزید کتنے دن اس پریشانی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ متعلقہ حکام کو چاہیے کہ وہ مسئلے کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں اور عوام کو نیٹ ورک کی بحالی کے حوالے سے واضح معلومات فراہم کریں۔











