ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیر صدارت اجلاس، 5 اگست اور 14 اگست کی تقریبات کا پروگرام طے

استامحمد: ڈپٹی کمشنر استامحمد محمد رمضان پلال کی زیرِ صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر محمد اسماعیل لاشاری، محکمہ تعلیم کے عبدالحمید مینگل، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
اجلاس میں 5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر اور 14 اگست یومِ آزادیٔ پاکستان کو شایانِ شان طریقے سے منانے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، اور تقریبات کو منظم اور مؤثر انداز میں منعقد کرنے کے لیے تمام متعلقہ محکموں کی ذمہ داریوں کا واضح تعین کیا گیا۔
یومِ استحصالِ کشمیر پر ریلی، 14 اگست کا پروگرام حتمی
ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال نے کہا کہ 5 اگست یومِ استحصالِ کشمیر کے موقع پر کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلی نکالی جائے گی اور ان کی جدوجہدِ آزادی کو اجاگر کیا جائے گا۔
انہوں نے بتایا کہ 14 اگست کی تقریبات کے پروگرام کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کے مطابق صبح 8:30 بجے پرچم کشائی کی تقریب ہوگی اور 9:00 بجے باقاعدہ تقریبات کا آغاز کیا جائے گا۔ اس موقع پر قائدِ اعظم محمد علی جناح کی جدوجہد اور قربانیوں پر تقاریر ہوں گی تاکہ نئی نسل کو قیامِ پاکستان کی اہمیت اور اس کے تاریخی پس منظر سے روشناس کرایا جا سکے۔
ڈپٹی کمشنر نے محکمہ تعلیم کے افسران کو کالجز اور اسکولوں کی سطح پر بھرپور تقریبات منعقد کرنے، جبکہ اسپورٹس آفیسر کو ہفتہ بھر کھیلوں کی سرگرمیوں کا انعقاد یقینی بنانے کی ہدایت کی تاکہ نوجوانوں میں صحت مند سرگرمیوں کو فروغ ملے۔ تمام ضلعی سربراہان کو ہدایت کی گئی کہ سرکاری دفاتر کو خوبصورتی سے سجایا جائے تاکہ جشنِ آزادی کی مناسبت سے قومی جوش و جذبہ نمایاں ہو۔
میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کو ہدایت کی گئی کہ 4 اگست کو چہلم کے موقع پر اور دیگر تقریبات کے دوران ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی حاضری یقینی بنائی جائے، جبکہ پولیس کو تمام پروگرامز کے لیے مؤثر سیکیورٹی انتظامات کی ہدایت جاری کی گئی۔ چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کو بتایا گیا کہ 14 اگست کی مرکزی تقریبات فیصل پارک میں ہوں گی، اس لیے پارک کی صفائی ستھرائی اور دیگر تمام ضروری انتظامات بروقت مکمل کیے جائیں۔
آخر میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ پاکستان لازوال قربانیوں کے بعد حاصل ہوا ہے، لہٰذا تمام افسران کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام میں شعور بیدار کریں اور انہیں ان قومی خوشیوں میں بھرپور انداز میں شامل کریں تاکہ حب الوطنی کے جذبے کو مزید تقویت ملے۔


تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











