پیوٹن کی ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی سربراہی اجلاس کی تجویز، یوکرین جنگ پر بات چیت

نیویارک: روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ اگلے ماہ سہ فریقی سربراہی اجلاس منعقد کرنے کی تجویز دی ہے، جس میں یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے بات چیت کی جا سکتی ہے۔
امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مجوزہ مذاکرات سے روس کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق یہ تجویز ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ٹرمپ اور پیوٹن کے تعلقات میں گرم جوشی دیکھی جا رہی ہے۔ امریکی صدر نے روسی ڈیزل خریدنے کے معاہدے کا اعلان کیا ہے، جبکہ جمعے کو ایک صدارتی حکم نامے کے ذریعے روس پر عائد بعض اہم پابندیوں میں چھوٹ بھی دی گئی۔
وال اسٹریٹ جرنل نے ایک سابق روسی انٹیلی جنس اہلکار کے حوالے سے کہا ہے کہ پیوٹن نے 9 اکتوبر کو ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے دوران سہ فریقی اجلاس کی تجویز پیش کی تھی۔ اخبار کے مطابق اسی گفتگو کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ڈیزل کا معاہدہ بھی طے پایا۔
شینزن میں اے پی ای سی اجلاس
رپورٹ کے مطابق روس نے آئندہ ماہ چین کے شہر شینزن میں ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) اجلاس کے موقع پر تینوں رہنماؤں کی ملاقات کی تجویز دی ہے۔ یہ اجلاس 18 اور 19 نومبر کو منعقد ہونا ہے۔
روسی ترجمان دمتری پیسکوف نے اخبار کو بتایا کہ ممکنہ ملاقات کے حوالے سے بات چیت جاری ہے، تاہم ابھی اس کے انعقاد یا ایجنڈے کے بارے میں واضح فیصلہ نہیں ہوا۔ ان کے مطابق تینوں فریق اس طرح کی ملاقات کے امکان کو تسلیم کرتے ہیں۔
ایک سینئر امریکی عہدیدار نے وال اسٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ٹرمپ نے تاحال اس سربراہی اجلاس پر اتفاق نہیں کیا، تاہم وہ اس تجویز پر غور کے لیے آمادہ ہو سکتے ہیں۔











