پاکستان اور ایران کے درمیان فٹ بال کے فروغ کے لیے 3 سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط

پاکستان اور ایران نے فٹ بال کے فروغ، نوجوان کھلاڑیوں کی تربیت اور فٹ بال کی ترقی کے لیے 3 سالہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے ہیں۔ اس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ میچز، مشترکہ تربیتی کیمپوں، کوچنگ کورسز اور تکنیکی مہارتوں کے تبادلے کو فروغ دیا جائے گا۔
پاکستان فٹ بال فیڈریشن اور ایران فٹ بال فیڈریشن کے درمیان یہ معاہدہ آذربائیجان کے شہر باکو کے ایک مقامی ہوٹل میں طے پایا۔ معاہدے پر پاکستان فٹ بال فیڈریشن کے صدر سید محسن گیلانی اور ایران فٹ بال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے دستخط کیے۔
معاہدے کا مقصد نوجوان کھلاڑیوں، کوچز اور تکنیکی عملے کو ترقی کے بہتر مواقع فراہم کرنا اور دونوں ممالک میں فٹ بال کے معیار کو بلند کرنا ہے۔ اس شراکت داری کے تحت نوجوانوں کی تربیت، کوچز کی تعلیم، تکنیکی مہارتوں کے تبادلے اور قومی ٹیموں کے مقابلوں پر توجہ دی جائے گی۔
ایران کو ایشیا اور عالمی سطح پر فٹ بال کی مضبوط ٹیموں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس شعبے میں اس کے تجربے سے پاکستان کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
پاکستان کی مردوں اور خواتین کی قومی فٹ بال ٹیموں کی کوچنگ بالترتیب ایرانی کوچز علی ایمانی اور فاطمہ شریف نوغابی کر رہے ہیں۔ نئے معاہدے کے تحت اس تعاون کو مزید منظم اور وسیع کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
تعاون کے شعبے
مفاہمتی یادداشت کے مطابق دونوں فٹ بال فیڈریشنز کھلاڑیوں کی صلاحیتوں کی شناخت، اکیڈمیوں کی ترقی، نوجوانوں کے مقابلوں، کوچنگ کورسز، کھیلوں کی سائنس اور سپورٹس میڈیسن کے شعبوں میں بھی مہارتوں کا تبادلہ کریں گی۔
معاہدے میں کوچز اور ریفریز کی تربیت، ایرانی کوچز اور ماہرین کو پاکستان بھیجنے، قومی فٹ بال لیگز کے انعقاد اور انتظامی امور میں ایرانی تجربے سے فائدہ اٹھانے کی گنجائش بھی شامل ہے۔
تعاون کا دائرہ نوجوانوں اور قومی ٹیموں تک محدود نہیں ہوگا بلکہ بنیادی سطح پر فٹ بال، خواتین کی فٹ بال، کھلاڑیوں کی جسمانی تیاری، ریفرینگ، کھیلوں کی سہولیات اور باصلاحیت کھلاڑیوں کی تربیت کے شعبے بھی شامل کیے گئے ہیں۔ مردوں، خواتین، نوجوانوں، اولمپک اور فٹ بال کی قومی ٹیموں کے درمیان بین الاقوامی دوستانہ مقابلوں کے انعقاد میں بھی تعاون کیا جا سکے گا۔
معاہدہ ابتدائی طور پر 3 سال تک تعاون کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، جبکہ اس پر عمل درآمد کے لیے مخصوص سرگرمیوں، انتظامات اور عملی پروگراموں کا فیصلہ دونوں فیڈریشنز باہمی اتفاق سے کریں گی۔











