رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 17° صاف 22° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:10مغرب 17:47عشا 19:08
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کے لیے 6 رفقا کی فہرست جیل حکام کو جمعایران کشیدگی کے خدشات: برینٹ خام تیل 116 ڈالر سے اوپر، چھ ماہ کی بلند ترین سطحایران پر حملہ بہترین فیصلوں میں سے ایک، دوبارہ ضرورت پڑی تو یقینا کروں گا: ٹرمپپاکستان کا تائیوانی ائیر لائنز کے لیے فضائی حدود بند کرنے کا فیصلہ واپسپنجاب میں چھوٹے کسانوں کو 3 کروڑ روپے تک بلا سود قرض دینے کا اعلاننوشکی گرلز کالج حملہ: دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزمخالق آباد کے قریب جعفر ایکسپریس پر راکٹ حملے اور فائرنگ، مسافر محفوظنیتن یاہو کی جماعت کا عرب جماعتوں پر انتخابی دھاندلی کا الزام، تحقیقات کا مطالبہالیکشن کمیشن کا خیبرپختونخوا کے 12 اضلاع کو بلدیاتی انتخابی عمل سے الگ رکھنے کا فیصلہخواجہ آصف کا فضل الرحمٰن کو جواب: تہران میں کوئی دفاعی معاہدہ زیر بحث نہیں تھااحسن خان کی گلوکاری: ثانیہ سعید کے ساتھ ڈرامے کا ساؤنڈ ٹریک وائرلڈرامے مٹی دے باوے کا مشہور منظر بھارتی کریئیٹر کی ویڈیو میں دہرایا گیا

نوشکی گرلز کالج حملہ: دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم

نوشکی گرلز کالج حملہ: دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان

نوشکی: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ صوبے سے دہشت گردی کی فضا ختم کرکے دہشت گردوں کو ان کے انجام تک پہنچایا جائے گا۔ بزدلانہ حملے حکومت کے عزم اور حوصلے پست نہیں کر سکتے۔

انہوں نے نوشکی کے گرلز کالج میں پیش آنے والے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز بی ایل اے کے دہشت گرد کالج میں داخل ہوئے اور تین طالبات کو زخمی کیا۔

زخمی طالبات میں سے دو کو شدید چوٹیں آنے پر فوری طور پر کوئٹہ منتقل کیا گیا، جہاں حکومت ان کے بہترین علاج اور دیکھ بھال کو یقینی بنا رہی ہے۔ تیسری طالبہ کو معمولی چوٹیں آئیں جن کا علاج نوشکی میں کیا گیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ بلوچ بچیوں کو تعلیم سے دور رکھنا دہشت گردوں کا مقصد ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچ بچیوں کو نشانہ بنانا اور معصوم طالبات کو گولیوں کا نشانہ بنانا کون سی بلوچیت اور کون سی روایات ہیں؟ ان کے مطابق یہ عناصر بچیوں کو تعلیم سے دور رکھ کر انہیں خودکش حملہ آور بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

تعلیمی اداروں کی بندش نہیں ہوگی

میر سرفراز بگٹی نے واضح کیا کہ بلوچستان حکومت کسی صورت اسکول اور کالج بند نہیں کرے گی۔ حکومت پہلے ہی 3 ہزار 200 بند اسکول کھول چکی ہے اور اب ان اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں کو مزید آباد کرے گی۔ بچوں کو تعلیم، شعور اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ایک طرف حکومت اپنی بچیوں کے لیے آکسفورڈ اور ہارورڈ جیسے تعلیمی اداروں کے دروازے کھولنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسری طرف دہشت گرد انہیں خودکش جیکٹیں پہنانے اور علم سے دور رکھنے کے درپے ہیں۔ ماضی میں بھی دہشت گرد متعدد پروفیسرز کو قتل کر چکے ہیں اور اب ان کی کارروائیوں کا دائرہ طلبہ اور طالبات تک پہنچ گیا ہے۔ یہ واقعہ بلوچستان کے دانشوروں، پروفیسرز اور سول سوسائٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جو لوگ دلیل کی بنیاد پر اور ریاست کے آئین و قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کرنا چاہتے ہیں، ان کے لیے ریاست کے دروازے ہمیشہ کھلے ہیں۔

انہوں نے زخمی طالبات سے اظہار یکجہتی کے لیے اعلان کیا کہ بیوٹمز یونیورسٹی میں اسپورٹس گالا اور نوشکی کے اسی کالج میں زخمی طالبات کے نام سے اسپورٹس فیسٹیول منعقد کیا جائے گا۔ محکمہ کھیل دونوں مقامات پر ان بہادر، غیور اور دلیر بچیوں کے نام سے اسپورٹس فیسٹیول منعقد کرے گا۔

دہشت گردوں کے خلاف کارروائی

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ان قاتلوں کا پیچھا نہیں چھوڑے گی اور زخمی طالبات اور ان کے والدین کو یقین دلایا کہ سیکیورٹی فورسز ان ظالموں تک پہنچ کر انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں گی۔ حکومت پاک فوج، ایف سی بلوچستان اور بلوچستان پولیس کے ساتھ مل کر اس دہشت گردی اور بربریت کا مقابلہ کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی روز سے سیکیورٹی فورسز لازوال قربانیاں دے کر پہاڑوں اور ٹھکانوں میں دہشت گردوں کا تعاقب کر رہی ہیں۔ انہیں شہری مراکز اور پہاڑوں دونوں سے نکالا جائے گا اور ان کے انجام تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔

وزیراعلیٰ نے بشیر زیب، رحمان گل، اللہ نذر اور دیگر دہشت گردوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھارتی مفادات کے لیے کام کرتے ہوئے اس حد تک گر چکے ہیں کہ نہتی بلوچ بچیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں، جو صرف تعلیم حاصل کرنے کے لیے کالج آتی ہیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر اللہ نذر کے اپنے بچے فرانس اور دیگر مقامات پر تعلیم حاصل کر سکتے ہیں تو کیا بلوچ بچیوں کو نوشکی کے کالج میں تعلیم حاصل کرنے کا حق نہیں؟

انہوں نے کہا کہ دہشت گرد پروپیگنڈے کے ذریعے بچیوں کو ریاست کے خلاف خودکش حملوں پر آمادہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت ایسی متعدد بچیوں کو میڈیا کے سامنے پیش کر چکی ہے، جن سے پوچھ گچھ کے دوران ان عناصر کی گھناؤنی سرگرمیوں کے شرمناک پہلو سامنے آئے، تاہم ان کی تفصیلات میڈیا یا دیگر فورمز پر بیان کرنا مناسب نہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کے لیے روزگار، کاروبار اور ذریعہ معاش کے پروگراموں پر توجہ مرکوز رکھے گی۔ یوتھ پالیسی سمیت حکومت کی تمام کوششوں کا مرکز بلوچستان کے نوجوان ہوں گے۔ دہشت گردوں کے سفاکانہ حملے حکومت کے ارادوں کو کمزور نہیں کر سکتے بلکہ اس عزم کو مزید مضبوط بناتے ہیں۔