رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 22° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
گوادر: عوامی حلقوں کا ٹیچنگ ہسپتال میں ادویات اور بھرتیوں کے اقدامات پر وزیراعلیٰ اور مولانا ہدایت الرحمن کا شکریہبارکھان: پی پی ایچ آئی کی ”صحت دہلیز“ ایپ سے گھر بیٹھے آن لائن طبی مشورہ ممکن، ڈسٹرکٹ منیجر غلام رسولسیکرٹری ایکسائز سید ظفر علی بخاری کا کوئٹہ کے بی اے مال میں محکمے کے آگاہی اسٹال کا دورہزیارت ڈویلپمنٹ پیکیج کے تحت بابِ زیارت، اسکولوں، سڑکوں اور واٹر سپلائی سمیت مختلف منصوبوں پر کام جاریکوئٹہ: چیف سیکرٹری شکیل قادر خان کی زیرصدارت انسداد پولیو ٹاسک فورس کا اجلاس، ماحولیاتی نمونے منفیکوئٹہ: ڈپٹی کمشنر مہراللہ بادینی کا کلی شابو میں ادارہ برائے خصوصی بچوں کا دورہبارکھان: ضلعی ناظم صحت ڈاکٹر محمد حسن ڈومکی کا ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ایم سی ایچ سنٹر کا اچانک دورہدکی: ڈپٹی کمشنر فضل الرحمن کبدانی کی زیرصدارت پی پی ایچ آئی کی ماہانہ ریویو میٹنگلورالائی: ڈپٹی کمشنر کی زیرصدارت ضلعی تعلیمی گروپ کا اجلاس، بند اسکولوں کی فوری بحالی کی ہدایتکوئٹہ: وزیر اعلیٰ سرفراز بگٹی کا ’’صحت دہلیز‘‘ ایپ کا اعلان، پہلے روز 791 کالز پر مفت طبی مشاورتچمن: کمشنر پشین ڈویژن قائم لاشاری کا دورہ، لائن ڈیپارٹمنٹس کا اجلاس، ماسٹر پلان اور ڈی ایچ کیو ہسپتال کا جائزہنصیرآباد: اُستا محمد میں ڈپٹی کمشنر محمد رمضان پلال کی صدارت میں میٹرک کے پوزیشن ہولڈرز کے اعزاز میں آگاہی اجلاس
صفحہ اول› بلوچستان ›نصیرآباد

نصیرآباد: مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید، سرکاری اسلحہ لے گئے

نصیرآباد: مسلح افراد کی فائرنگ سے دو پولیس اہلکار شہید، سرکاری اسلحہ لے گئے

نصیرآباد: پولیس تھانہ صدر کی حدود میں بیدار بیرون کے علاقے میں نامعلوم موٹر سائیکل سوار مسلح افراد کی فائرنگ سے ڈیوٹی پر مامور دو پولیس اہلکار احمد لاشاری اور عبدالملک بگٹی شہید ہوگئے۔

واقعے کے بعد ملزمان شہید اہلکاروں کا سرکاری اسلحہ بھی اپنے ساتھ لے گئے۔ اطلاع ملتے ہی پولیس موقع پر پہنچ گئی۔

ورثا کا دھرنا

شہید اہلکاروں کے ورثا نے لاشیں پٹ فیڈر پل قومی شاہراہ پر رکھ کر احتجاجی دھرنا دے دیا اور ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ دھرنے کے باعث سندھ بلوچستان قومی شاہراہ پر ٹریفک معطل ہوگئی۔

قائم مقام ایس ایس پی نصیرآباد معروف عثمان اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالغفور لہڑی نے مظاہرین سے مذاکرات کیے، جس کے بعد ورثا نے احتجاج ختم کردیا۔

شہید اہلکاروں کی نماز جنازہ پولیس لائن ڈیرہ مراد جمالی میں ادا کی گئی، جس میں پولیس افسران اور شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔