نصیرآباد: بلوچستان کی حدود میں سندھ ایریگیشن کا بغیر این او سی سم نالہ، کمشنر کا کام فوری رکوانے کا حکم

نصیرآباد: کمشنر نصیرآباد ڈویژن صلاح الدین نورزئی کی زیر صدارت سندھ ایریگیشن کی جانب سے بلوچستان کے حصے میں این او سی کے بغیر سم نالے کی تعمیر کی روک تھام کے حوالے سے اعلیٰ سطح کا اہم اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی، سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن سرکل/ ایکس ای این مدثر ظفر کھوسہ، اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور سیف الدین کھوسہ اور اسسٹنٹ کمشنر جعفرآباد دھیرج کالرا نے شرکت کی۔
بلوچستان کے ڈرینج سسٹم پر براہ راست اثرات کا خدشہ
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیف انجینئر کینالز قربان علی جتوئی نے بتایا کہ بلوچستان کی حدود میں زیر تعمیر سم نالے کا کام سندھ ایریگیشن کی جانب سے کیا جا رہا ہے اور اس سے بلوچستان کے ڈرینج سسٹم پر براہ راست اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
اس موقع پر ایکس ای این نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نالے کی کھدائی کا یہ کام حکومت بلوچستان سے این او سی حاصل کیے بغیر شروع کیا گیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ جب تک اعلیٰ حکام سے باضابطہ اجازت حاصل نہیں کی جاتی، بلوچستان کی حدود میں نالے کے اس کام کو ہرگز جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
کمشنر صلاح الدین نورزئی نے ڈپٹی کمشنر صحبت پور کو ہدایت کی کہ اس سے متعلق ڈسٹرکٹ کی سطح پر اجلاس طلب کیا جائے اور تب تک بلوچستان کی حدود میں جاری نالے کا تعمیراتی کام بند کرایا جائے۔
2010 کے سیلاب کا حوالہ
محکمہ آبپاشی بلوچستان نے آگاہ کیا کہ سال 2010 کے تباہ کن سیلاب کے دوران نور واہ کے ذریعے آنے والے سیلابی ریلے نے بلوچستان کے ڈرینج سسٹم کو شدید نقصان پہنچایا تھا، اس لیے مستقبل میں ایسے کسی بھی اقدام کی اجازت نہیں دی جا سکتی جو صوبے کے عوام، زرعی اراضی اور انفراسٹرکچر کے لیے خطرے کا باعث بنے۔
مزید کہا گیا کہ سندھ ایریگیشن حکام پر لازم تھا کہ بلوچستان کی حدود میں کسی بھی نوعیت کے منصوبے پر کام شروع کرنے سے قبل بین الصوبائی رابطوں اور باہمی مشاورت کو یقینی بناتے، تاہم ایسا نہ کرنا افسوسناک ہے۔
کمشنر نے اسسٹنٹ کمشنر صحبت پور کو ہدایت جاری کی کہ سم نالے کی تعمیر فوری طور پر رکوائی جائے اور جب تک حکومت بلوچستان کے محکمہ آبپاشی کی جانب سے کوئی واضح احکامات نہیں آتے، تمام صورتحال کی کڑی نگرانی کی جائے، اور صوبے کے مفادات، سرحدی حدود اور عوام کے تحفظ پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ ہرگز نہ کیا جائے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











