لورالائی کالج آف نرسنگ میں ماں کے دودھ کی اہمیت پر سیمینار؛ پہلے چھ ماہ صرف ماں کا دودھ پلانے پر زور

لورالائی: بلوچستان نیوٹریشن ڈائریکٹوریٹ محکمہ صحت کے زیرِ اہتمام اور یونیسف کے تعاون سے ڈائریکٹر نیوٹریشن ڈاکٹر نعیم خان زرکون کی ہدایت پر لورالائی کالج آف نرسنگ میں ماں کے دودھ کی اہمیت و افادیت پر سیمینار منعقد ہوا۔
سیمینار سے قائم مقام ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر شاہ زمان حمزہ زئی، ہیڈ آف چلڈرن وارڈ ڈاکٹر حنیف دمڑ، اے ڈی ایس ایم پی پی ایچ آئی محیب اللہ کاکڑ، ایس او ایم این سی ایچ پروگرام محمد عثمان موسیٰ خیل، پرنسپل کالج آف نرسنگ میڈم سکینہ کاکڑ، ڈسٹرکٹ نیوٹریشن کوآرڈینیٹر نقیب اللہ ناصر اور سیفٹی آفیسر بلوچستان فوڈ اتھارٹی شہزاد ناصر نے خطاب کیا۔
مقررین نے کہا کہ دورانِ حمل متوازن خوراک، ٹی ٹی ویکسینیشن اور کسی طبی پیچیدگی کی صورت میں بروقت طبی عملے سے رجوع ماں اور بچے کی صحت کے لیے ضروری ہے۔ پیدائش کے فوراً بعد اور پہلے چھ ماہ تک صرف ماں کا دودھ بچے کی ذہنی و جسمانی نشوونما اور قوتِ مدافعت کے لیے انتہائی اہم ہے اور بچوں کو مختلف بیماریوں سے محفوظ رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماں اور بچے کی شرحِ اموات میں کمی کے لیے شعور و آگاہی، بروقت ویکسینیشن اور احتیاطی تدابیر بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ مصنوعی دودھ وقتی طور پر بھوک مٹا سکتا ہے مگر ماں کے دودھ کے قدرتی غذائی اجزا اور حفاظتی خصوصیات بچے کی بہتر نشوونما کے لیے نہایت اہم ہیں۔
مقررین کا کہنا تھا کہ مہنگائی، غربت اور قدرتی آفات کے باعث بعض خاندان غذائی کمی کا شکار ہیں؛ نوشکی میں غذائی کمی کے باعث بچوں میں لاغر پن، قد کی مناسب نشوونما نہ ہونا اور دیگر مسائل سامنے آ رہے ہیں جن پر قابو پانے کے لیے معاشرتی رویوں میں مثبت تبدیلی اور مؤثر آگاہی ناگزیر ہے۔
سیمینار میں ایل ایچ ڈبلیو ٹیموں، بینظیر پروگرام کے مراکز، نیوٹریشن پروگرام کے او ٹی پی سینٹرز، نرسز، ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز، ڈویژنل پولیو آفیسر ڈاکٹر حنیف لونی، ایم این ای آفیسر سید رفیع اللہ شاہ، ڈی ایس وی گل نواز خان ناصر، اے ڈی سی جنرل علی نواز جمالی اور دیگر نے شرکت کی۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











