ایف ڈی آئی کا بلوچستان کے لیے ماہواری صحت و صفائی پالیسی اور مخصوص بجٹ مختص کرنے کا مطالبہ

کوئٹہ: فورم فار ڈگنٹی انیشی ایٹوز (ایف ڈی آئی) نے حکومت اور متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ بلوچستان کے لیے ماہواری صحت و صفائی (MHH) کی جامع پالیسی باضابطہ طور پر اختیار کی جائے اور اس کے لیے مخصوص بجٹ مختص کیا جائے، تاکہ صوبے بھر کے اسکولوں اور عوامی مقامات پر صفائی کی بنیادی سہولیات یقینی بنائی جا سکیں۔ اقدام کا محور اسکولوں اور عوامی مقامات پر مخصوص سہولیات کا قیام اور ماہواری صفائی کی مصنوعات کو قابلِ رسائی اور سستا بنانا ہے۔
یہ مطالبہ کوئٹہ میں صوبائی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی نشستوں کے دوران کیا گیا، جن کی قیادت ایف ڈی آئی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر عظمیٰ یعقوب نے کی۔ اس سلسلے میں عظمیٰ یعقوب کی قیادت میں ایف ڈی آئی کے وفد نے صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی سے ملاقات کی، جبکہ چیئرپرسن ایم ایچ ایم سیکرٹریٹ بلوچستان ڈاکٹر طاہرہ بلوچ کے ہمراہ ایف ڈی آئی ٹیم کا گروپ فوٹو بھی بنایا گیا۔
عظمیٰ یعقوب نے کہا کہ ماہواری صحت بلوچستان میں عوامی خدمات کے سب سے نظرانداز شعبوں میں سے ہے، حالانکہ یہ آدھی سے زیادہ آبادی کو براہِ راست متاثر کرتی ہے۔ صوبائی فریم ورک نہ ہونے سے اسکولوں، صحت مراکز اور دفاتر میں بنیادی سہولیات کا انحصار انفرادی اداروں کی صلاحیت اور رضامندی پر ہے، جس سے کہیں لڑکیوں اور خواتین کو مناسب سہولت ملتی ہے اور کہیں بنیادی ضروریات بھی میسر نہیں۔
سہولیات بنیادی حق، اختیاری نہیں
انہوں نے زور دیا کہ بنیادی ڈھانچہ نہ صرف قائم کیا جائے بلکہ اسے پائیدار طور پر برقرار بھی رکھا جائے۔ واش رومز کی پرائیویسی، صاف پانی، صابن، فضلے کو محفوظ طریقے سے ٹھکانے لگانے کا انتظام اور آرام کی جگہیں بنیادی حقوق سمجھے جائیں نہ کہ اختیاری سہولیات۔ انہوں نے تعلیمی اداروں اور عوامی مقامات پر ماہواری صفائی کی مصنوعات مفت فراہم کرنے کی سفارش بھی کی۔
صوبے کی موسمیاتی آفات سے متاثر ہونے کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بار بار کے سیلاب، شدید خشک سالی اور نقل مکانی کی وجہ سے ماہواری صحت آفات سے نمٹنے کی تیاری اور ہنگامی ردعمل کا اہم جزو ہے۔ نقل مکانی کی صورت میں ماہواری کا سامان اور ذاتی پرائیویسی اکثر سب سے پہلے چھنتی ہیں، مگر امدادی منصوبہ بندی میں یہ ضروریات شروع سے نظرانداز کی جاتی ہیں۔
انہوں نے ان مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کے لیے پائیدار پالیسی اقدامات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ صرف سستا ہونا کافی نہیں، یہ مصنوعات اسکولوں، صحت مراکز اور اداروں میں عملاً دستیاب ہونی چاہئیں جہاں خواتین کے پاس اکثر انہیں خود حاصل کرنے کے ذرائع نہیں ہوتے۔ انہوں نے عمر کے مطابق درست آگاہی کی کمی کی نشاندہی بھی کی کہ اساتذہ کو اس موضوع پر بات کرنے کی تربیت شاذ و نادر ہی دی جاتی ہے، جس سے لڑکیاں نامکمل یا غلط معلومات پر انحصار کرتی ہیں۔
عظمیٰ یعقوب نے کہا: "کسی لڑکی کی تعلیم تک رسائی اور اسکول میں رہنے کی صلاحیت کبھی اس بات پر منحصر نہیں ہونی چاہیے کہ اس کے اسکول میں تالے والے دروازے کے ساتھ فعال واش روم ہے یا نہیں۔ مخصوص پالیسی اور واضح بجٹ لائن کے بغیر ہم اپنی بچیوں کا وقار اور مستقبل مکمل طور پر قسمت پر چھوڑ رہے ہیں۔"
فورم فار ڈگنٹی انیشی ایٹوز نے پالیسی کے باضابطہ نوٹیفکیشن میں تیزی لانے اور ماہواری صحت و صفائی کو بلوچستان کی ترقیاتی منصوبہ بندی اور سالانہ بجٹ میں ترجیح دلانے کے لیے صوبائی اسٹیک ہولڈرز سے مکالمہ جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











