حالات ٹھیک نہ ہوں تو ایمرجنسی 10 بار بھی لگانا پڑے تو لگنی چاہیے: رانا ثناء اللہ

اسلام آباد (اعتماد ڈیسک): وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آئین کے تحت ایمرجنسی کی مدت بڑھائی جا سکتی ہے، اور اگر اسمبلی کا نیا قائد ایوان دہشت گردی کے خلاف متفق نہ ہو تو ایمرجنسی 10 بار بھی لگانا پڑے تو لگنی چاہیے۔
سماء ٹی وی کے پروگرام ریڈ لائن میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد مینڈیٹ اسمبلی کے پاس چلا جائے گا؛ ایمرجنسی ہٹنے پر اسمبلی نیا لیڈر آف دی ہاؤس منتخب کرے گی۔ ان کے بقول سوال یہ ہے کہ پاکستان پہلے ہے یا کسی کا وزیراعلیٰ بننا۔
رانا ثناء اللہ نے کہا کہ حالات 3 یا 6 مہینے میں ٹھیک ہو جائیں تو ایمرجنسی آگے نہیں جانی چاہیے، تاہم اقتدار میں چاہے پی ٹی آئی ہی ہو، اسے دہشت گردی کے خلاف قومی بیانیے کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پرامید ہے کہ یہ نظام کام کرے گا؛ ایڈوائزری کونسل سکیورٹی فورسز اور مسلح افواج کو سپورٹ دے گی اور جن علاقوں کو فوج دہشت گردوں سے پاک کرے گی انہیں سول انتظامیہ سنبھالے گی۔











