عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، بلڈ پریشر 192 تک پہنچ گیا: سلمان اکرم راجہ

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ نے اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیراعظم عمران خان کی صحت پر شدید تشویش ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان کا بلڈ پریشر معمول پر نہیں آ رہا اور ان کی زندگی کو خطرہ لاحق ہے۔ وہ اسلام آباد میں جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہے تھے۔
سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ پارٹی کو پہلے یہ اطلاع دی گئی تھی کہ جولائی اور اگست میں عمران خان کو بلڈ پریشر کی شکایت رہی جو بعد میں ٹھیک ہو گئی۔ ان کے مطابق دو روز قبل سلمان صفدر سے ملاقات میں عمران خان نے جو تفصیلات بتائیں وہ انتہائی تشویشناک ہیں۔ عمران خان کے بقول ان کے بلڈ پریشر کی اوپری سطح 192 تک پہنچ گئی ہے اور یہ کیفیت بار بار پیش آ رہی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ عمران خان کو کیا کھلایا جا رہا ہے، کون سی ادویات دی جا رہی ہیں اور ان کی دیکھ بھال کس انداز میں ہو رہی ہے۔
پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ موجودہ نظام عمران خان کے ذاتی معالجین کو ان تک رسائی دینے سے گریز کر رہا ہے، حالانکہ یہ ڈاکٹر گزشتہ 40 سال سے ان کا علاج کر رہے ہیں۔ ان کے بقول رسائی نہ دینے سے صرف شکوک پیدا نہیں ہوتے بلکہ یہ یقین بھی مضبوط ہوتا ہے کہ معاملات ٹھیک نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان کی جان کی حفاظت سب کا اور پوری قوم کا فرض ہے اور وہ قوم کے سامنے واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ اس وقت ان کی زندگی خطرے میں ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے خیبرپختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے خلاف آواز اٹھانے پر مولانا فضل الرحمان کا شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس موقف کی وجہ سے مولانا کو جو کچھ سہنا پڑ رہا ہے وہ ہرگز قابل قبول نہیں، ان کے گھر اور ذات پر حملے کیے جا رہے ہیں اور ملک میں جب چاہے کسی کی عزت اچھالنے کو ریت بنا دیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی ٹی آئی اور جے یو آئی مل کر مسائل کا حل تلاش کریں گی اور اس مقصد کے لیے ایک کمیٹی بنا دی گئی ہے جو مشترکہ لائحہ عمل طے کرے گی۔ اس کے بعد ملک کی تمام جمہوریت پسند جماعتوں سمیت دیگر چھوٹی بڑی جماعتوں سے رابطے کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق جس آل پارٹیز کانفرنس کی طرف بڑھا جا رہا ہے وہ قومی یگانگت کی جانب پہلا قدم ہو گا، اور قوم کو فیصلہ کرنا ہے کہ غلامانہ زندگی جینی ہے یا وقار بحال کرنا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ وفاق کی جڑوں کو کمزور کیا جا رہا ہے اور اب ملک کو بچانے کا وقت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر میں خون بہایا گیا، خیبرپختونخوا میں چار کروڑ سے زائد لوگوں کے مینڈیٹ پر حملہ ہوا، بلوچستان دہائیوں سے لہولہان ہے اور لوگ لاپتا ہیں، سندھ کا ہاری اپنے پانی کے مستقبل کے بارے میں مضطرب ہے، جبکہ پنجاب میں کوئی گھر ایسا نہیں جہاں حق کی آواز اٹھی ہو اور اس پر حملہ نہ ہوا ہو۔ انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ یہ جنگ قوم کے ساتھ مل کر لڑی جائے گی۔











