اوگرا کا اکتوبر کے لیے آر ایل این جی کی قیمتوں میں 15.3 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن

اسلام آباد: آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے اکتوبر کے لیے ری گیسیفائیڈ مائع قدرتی گیس (آر ایل این جی) کی قیمتوں میں 15.3 فیصد تک اضافے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق سوئی سدرن گیس کمپنی کے صارفین کے لیے قیمت 2.17 ڈالر فی ملین برٹش تھرمل یونٹ (ایم ایم بی ٹی یو) بڑھ کر 16.3959 ڈالر ہو گئی، جو ستمبر میں 14.2233 ڈالر تھی۔ یہ اضافہ 15.27 فیصد بنتا ہے۔
سوئی نادرن گیس پائپ لائنز کے صارفین کے لیے قیمت 2.1296 ڈالر یعنی 14 فیصد بڑھ کر 17.3259 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو ہو گئی، جو پہلے 15.1963 ڈالر تھی۔
اکتوبر کی قیمت کا تعین قطر سے طویل مدتی معاہدوں کے تحت پاکستان اسٹیٹ آئل کی درآمد کردہ ایل این جی کے دو کارگو کی بنیاد پر کیا گیا۔ ایک کارگو برینٹ خام تیل کی قیمت کے 13.37 فیصد اور دوسرا 8.7153 فیصد کے حساب سے خریدا گیا۔
پاکستان ایل این جی لمیٹڈ نے اس ماہ اسپاٹ مارکیٹ سے کوئی کارگو نہیں خریدا۔
ستمبر میں حکومت نے قیمتوں میں 21.57 فیصد تک کمی کی تھی، جس سے مہینوں کی رکاوٹوں کے بعد ایندھن کی لاگت میں کچھ نرمی آئی تھی۔
قطر پی ایس او کے ساتھ برینٹ سے منسلک دو طویل مدتی معاہدوں کے تحت پاکستان کے لیے ایل این جی کا اہم ذریعہ ہے۔ دو مارچ کو قطری توانائی تنصیبات پر حملوں کے بعد قطر انرجی نے فورس میجر کا اعلان کر کے یورپ اور ایشیا کے بعض صارفین، بشمول پاکستان، کو کچھ ترسیل معطل کر دی تھی۔
آر ایل این جی ملک کے توانائی مکس کا تقریباً پانچواں حصہ ہے اور گھریلو گیس کی گھٹتی سپلائی کی کمی پوری کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔











