نیتن یاہو کی جماعت کا عرب جماعتوں پر انتخابی دھاندلی کا الزام، تحقیقات کا مطالبہ

یروشلم: وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جماعت لیکود نے اسرائیلی انتخابات میں عرب جماعتوں پر دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے مرکزی الیکشن کمیٹی سے فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ ووٹوں کی گنتی جاری ہے۔
لیکود کے مطابق وہ پولیس، شن بیت اور مرکزی الیکشن کمیٹی کو سینکڑوں بیانات اور شواہد دے رہی ہے۔ جماعت نے ذمہ دار افراد کے خلاف مکمل قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔
نیتن یاہو کے ایکس اکاؤنٹ سے جاری بیان میں کہا گیا کہ انتخابات دہشت گردی کی حمایت کرنے والی عرب جماعتوں نے ’چوری‘ کیے۔ بیان میں نقد رقم، پولنگ عملے کو دھمکیوں اور تشدد، ایک سے زیادہ بار ووٹ ڈالنے، دوہری شناخت پر ووٹنگ اور ممنوعہ سافٹ ویئر کے استعمال کے الزامات شامل ہیں۔
نیتن یاہو کے بیٹے یائر نیتن یاہو نے بھی دھاندلی کا الزام لگایا اور کہا کہ قانون کے مطابق دہشت گردی کی حمایت کرنے اور اسرائیل کو یہودی ریاست نہ ماننے والی جماعتیں الیکشن نہیں لڑ سکتیں۔
بی بی سی اردو کے مطابق ٹرن آؤٹ ریکارڈ 77 فیصد سے زیادہ رہا۔ جزوی نتائج میں عرب قیادت والی جماعتیں تقریباً 19 نشستوں پر آگے ہیں، جو ان کی گزشتہ ریکارڈ تعداد کے برابر یا اس سے زیادہ ہے۔ لیکود سب سے بڑی واحد جماعت بن کر ابھر رہی ہے، مگر نیتن یاہو کا اتحاد 120 رکنی پارلیمان میں 61 نشستوں سے کچھ دور نظر آتا ہے۔
گادی آئزنکوٹ کی قیادت والے اپوزیشن اتحاد کے لیے عرب جماعتوں کے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق بعض اپوزیشن جماعتیں عرب ارکان کی حمایت لینے پر آمادہ نہیں، اس لیے نیتن یاہو اقتدار میں رہ سکتے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ابتدائی گنتی دائیں بازو کے گڑھ علاقوں میں ہوئی، اس لیے نتائج بدل بھی سکتے ہیں۔











