رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 12° صاف 23° / 11°فجر 05:23ظہر 12:16عصر 16:10مغرب 17:46عشا 19:07
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
ایران پر نئے اسرائیلی حملے عالمی منڈیوں کے لیے تباہ کن ہوں گے: عراقچیکترینہ کیف: وکی کوشل عملی طور پر سمجھدار ہیں، میں نظریاتی طور پر سمجھدار ہوںحنا الطاف کا خواتین کو درپیش پابندیوں پر طنز، سوشل میڈیا پر نئی بحثلاہور اور کراچی ائیرپورٹس کی توسیع کی منظوری، مسافروں کی سہولیات بہتر بنانے کی ہدایتبلاول: پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے، وزیر داخلہ ایوان کو بریف کریںفیفا انڈر 15 ورلڈ کپ: پاکستان نے بہاماس کو 5-0 سے شکست دے دیامریکی نائب صدر کا ایران سے مذاکرات بحال کرنے کے لیے محسن رضائی کو خطایرانی فلم ساز جعفر پناہی کو پانچ سال قید کی سزا، سفر اور سوشل میڈیا پر پابندیانتخابی اصلاحات: اپوزیشن کو پارلیمانی کمیٹی میں شامل کرنے کی وزیراعظم کی ہدایتفائنل سے قبل مائیک ہیسن: قومی ٹیم ابھی بہترین کرکٹ نہیں کھیلیفائنل سے قبل قومی کرکٹ ٹیم کی لاہور میں بھرپور ٹریننگطیب اردوان کی ٹرمپ سے فون پر گفتگو: ہرمز اور یمن کے مسائل سفارتی ذرائع سے حل کرنے کی کوشش

کوئٹہ میں ریسٹورنٹس اور کیفیز کا فیلڈ وزٹ، بلوچستان ریونیو اتھارٹی کے نوٹسز جاری

کوئٹہ: بلوچستان ریونیو اتھارٹی (BRA) کی ٹیم نے مختلف ریسٹورنٹس اور کیفیز کے فیلڈ وزٹس کیے تاکہ قابلِ اطلاق ٹیکس قوانین پر عملدرآمد اور رجسٹریشن کی صورتحال کا جائزہ لیا جا سکے۔

دوروں کے دوران متعلقہ کاروباری اداروں کو رجسٹریشن اور دیگر قانونی و ٹیکس تقاضوں کی تکمیل کے حوالے سے نوٹسز جاری کیے گئے۔ کاروباری مراکز کی انتظامیہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنی رجسٹریشن مکمل کریں، ٹیکس ریٹرنز بروقت جمع کرائیں اور اپنی قانونی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

کاروباری برادری سے اپیل

بلوچستان ریونیو اتھارٹی نے کاروباری برادری پر زور دیا ہے کہ وہ ٹیکس قوانین کی پابندی کرتے ہوئے صوبے کے محصولات میں اضافے اور شفاف ٹیکس نظام کے فروغ میں اپنا کردار ادا کریں۔ اتھارٹی کا مقصد ٹیکس دہندگان میں آگاہی بڑھانے، رجسٹریشن کے عمل کو آسان بنانے اور قانونی تقاضوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے ضروری رہنمائی اور سہولت فراہم کرنا ہے۔

اتھارٹی کے مطابق، نوٹسز کے بعد بھی قانونی تقاضے پورے نہ کرنے والے اداروں کے خلاف مروجہ قانون کے مطابق مزید کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے۔