پی ٹی آئی نے ٹی ٹی پی کے لوگ بسائے، 700 ارب کے باوجود کے پی میں سی ٹی ڈی کمزور: تارڑ

اسلام آباد (اعتماد ڈیسک): وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے الزام لگایا ہے کہ تحریک انصاف نے خیبرپختونخوا دہشت گردوں کے حوالے کر دیا ہے؛ فوج علاقے کلیئر کرتی ہے مگر پی ٹی آئی دہشت گردوں کو واپس لا کر بساتی ہے اور ساڑھے 13 سال میں صوبے کو پتھر کے زمانے میں پہنچا دیا گیا۔
پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ ضربِ عضب اور ردالفساد جیسے آپریشنز سے علاقے صاف کیے گئے، لیکن بعد میں تحریک انصاف نے کالعدم ٹی ٹی پی کے لوگوں کو واپس لا کر آباد کیا۔ انہوں نے پی ٹی آئی قیادت کو دہشت گردوں کا سب سے بڑا سہولت کار قرار دیا اور کہا کہ اس کی سوچ طالبان کے نظریے سے میل کھاتی ہے۔
کوہاٹ میں شہید کانسٹیبل فہیم اللہ کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ صوبائی حکومت دہشت گردوں کے خلاف واضح مؤقف لینے کو تیار نہیں، اور کوہاٹ، ہنگو اور ڈیرہ اسماعیل خان کے واقعات کی ذمہ داری تحریک انصاف کی پالیسیوں پر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ این ایف سی کے تحت کے پی حکومت کو انسدادِ دہشت گردی کی مد میں تقریباً 700 ارب روپے مل چکے ہیں، مگر نہ سی ٹی ڈی مضبوط کی گئی، نہ پولیس جدید بنی اور نہ سیف سٹی کیمرے لگے۔ صوبائی حکومت کا وقت اور وسائل گورننس کے بجائے احتجاج پر لگ رہے ہیں۔
تارڑ نے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی اور ان کی کابینہ سے سوال کیا کہ وہ عوام کو دیا گیا کوئی بڑا ہسپتال، یونیورسٹی یا ہائی وے بتائیں۔ ان کے بقول پنجاب، سندھ اور بلوچستان میں ترقیاتی کام نظر آتا ہے، جبکہ وفاق کی ایندھن ریلیف سکیم سے ایک کروڑ سے زائد افراد مستفید ہوئے۔ تحریک انصاف قومی مفاد پر سیاسی مفاد کو ترجیح دے رہی ہے۔











