ہرمز میں ٹینکرز پر حملے، سعودی تنصیبات نشانے پر؛ برینٹ خام تیل پانچ ماہ کی بلند سطح پر

نیویارک: مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، آبنائے ہرمز میں ٹینکرز پر حملوں اور سعودی عرب کی توانائی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے دعووں کے بعد تیل کی عالمی منڈی میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ مختلف اداروں کے بیان کردہ نرخ ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔
اے بی سی نیوز کے مطابق منگل کو برینٹ خام تیل مئی کے بعد پہلی بار 111 ڈالر فی بیرل سے اوپر گیا اور پھر 110.30 ڈالر پر آ گیا۔ فروری کے آخر میں ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے اس میں 55 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔ ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ 105.75 ڈالر رہا۔ بگ گو فنانس کے مطابق برینٹ دن کے دوران 111.05 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 104.94 ڈالر تک پہنچا۔ سی این بی سی کے مطابق بدھ کو برینٹ 3 سینٹ اضافے سے 108.82 ڈالر اور ڈبلیو ٹی آئی 67 سینٹ کمی سے 97.15 ڈالر پر بند ہوا۔ آئل پرائس ڈاٹ کام نے برینٹ 109.68 اور ڈبلیو ٹی آئی 98.55 ڈالر بتایا۔
یمن کے حوثیوں نے پیر کو دعویٰ کیا کہ انہوں نے سعودی عرب میں ارامکو کی ینبع کی سہولیات، شیبہ آئل فیلڈ اور ریاض و ابہا کے ہوائی اڈوں کو نشانہ بنایا۔ بگ گو فنانس کے مطابق سعودی حکام نے ان دعووں کی فوری تصدیق نہیں کی اور آزاد ذرائع سے بھی تصدیق نہیں ہو سکی۔
پاسداران انقلاب نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے جنوبی حصے میں ایک غیر قانونی گزرگاہ پر بچھی بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے دو ٹینکر جل اٹھے اور رک گئے۔ سی این بی سی کے مطابق پاسداران نے تین ٹینکرز کے راستے میں رکاوٹ کا بھی ذکر کیا۔ کپلر کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں میں کم از کم 18 ٹینکر حملے ہوئے، جبکہ خلیج فارس سے یومیہ تیل کی ترسیل دو ہفتے پہلے کے 2 کروڑ بیرل سے زائد سے گھٹ کر 85 لاکھ بیرل رہ گئی۔
گولڈمین سیکس کی رپورٹ کے مطابق خام تیل کا اوسط عالمی مال برداری کرایہ 20 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلا گیا، جو ایک سال پہلے 3 ڈالر تھا۔ اس میں ہرمز عبور کرنے کے جنگی خطرے کا پریمیم تقریباً 7 ڈالر اور خلیج فارس کے باہر جہاز سے جہاز منتقلی کا حصہ 4 ڈالر ہے۔ بینک نے خبردار کیا کہ بلند کرایے ریفائنریوں کے منافع پر دباؤ ڈال کر ریفائنڈ ایندھن مہنگا کر سکتے ہیں۔
اے اے اے کے مطابق امریکا میں گیس کی اوسط قیمت 4.27 ڈالر فی گیلن ہے، جو فروری کے آخر سے تقریباً 1.30 ڈالر زیادہ ہے۔











