پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہونے کا خدشہ، آئی ایم ایف کی تنبیہ

اسلام آباد: عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ درآمدات میں اضافے اور ترسیلات زر کی رفتار میں کمی کے باعث پاکستان کی بیرونی مالیاتی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق آئی ایم ایف نے زرمبادلہ کے ذخائر کو محفوظ رکھنے کے لیے شرح مبادلہ میں لچک برقرار رکھنے اور بڑھتی مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مانیٹری پالیسی مزید سخت کرنے پر زور دیا ہے۔
یہ مشاہدات آئی ایم ایف کی مشرق وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے متعلق علاقائی رپورٹ میں پیش کیے گئے، جو گزشتہ ہفتے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے ایک ہفتے بعد گزشتہ روز جاری ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق درمیانی مدت میں مصر، اردن اور مراکش کی بیرونی مالیاتی پوزیشن میں بہتری کی توقع ہے، جس کی وجہ اجناس کی کم قیمتیں اور برآمدات میں تنوع ہوگا۔ تاہم پاکستان کی بیرونی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے، کیونکہ درآمدات بڑھنے اور ترسیلات زر کم ہونے کی توقع ہے۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کے جاری کھاتے کا خسارہ مجموعی قومی پیداوار کے ایک فیصد، یعنی تقریباً 4.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ تخمینہ حکومت کے تقریباً 2.5 ارب ڈالر کے سرکاری اندازے سے کہیں زیادہ ہے۔
مالیاتی ضروریات اور قرضے
پاکستان کی مجموعی بیرونی مالیاتی ضروریات جی ڈی پی کے 22 سے 25 فیصد تک رہنے کا امکان ہے، جو ہم پلہ ممالک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے اور مختلف مالیاتی خطرات کا باعث بن سکتی ہیں۔
رپورٹ میں حکومت اور تجارتی بینکوں کے گہرے تعلق کا بھی ذکر ہے۔ آئی ایم ایف کے اندازے کے مطابق بینکوں کے مجموعی اثاثوں یا سرمایہ کاری میں سرکاری قرضوں سے متعلق ایکسپوژر 63 فیصد ہے، جو ابھرتی ہوئی معیشتوں کی عمومی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔
آئی ایم ایف نے خبردار کیا کہ حکومتی قرضوں میں اضافے سے حکومت کے لیے قرض لینے کی لاگت بنیادی تخمینوں سے زیادہ ہو سکتی ہے، جس سے مصر اور پاکستان جیسے ممالک میں مالیاتی استحکام کے مسائل مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔
شرح سود اور روپے کی قدر
حکومت روپے کی قدر میں کمی کی اجازت دینے کی کسی بھی تجویز پر محتاط ہے، کیونکہ اس سے مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ہے اور برآمدات کو حقیقی فائدہ پہنچنے کے امکانات بھی واضح نہیں۔
انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپیہ ایک پیسہ مضبوط ہو کر 276.85 روپے پر رہا۔
رپورٹ کے مطابق جہاں مہنگائی پہلے ہی ہدف سے زیادہ ہو اور پالیسی نسبتاً نرم ہو، وہاں ممالک کو مانیٹری پالیسی سخت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ مرکزی بینک کی پالیسی شرح سود اندازاً غیر جانب دار سطح سے کم ہوتی ہے، جو کرغزستان اور پاکستان میں زیادہ نمایاں ہے۔
آئی ایم ایف کے مطابق تنازع شروع ہونے کے بعد مختلف ممالک نے اپنے شرح مبادلہ کے نظام کے مطابق شرح سود سے متعلق اقدامات کیے۔ لچکدار شرح مبادلہ رکھنے والے ممالک میں پاکستان واحد ملک تھا جس نے تنازع شروع ہونے کے بعد شرح سود میں اضافہ کیا۔
آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی ترقی کی پیش گوئی 3.5 فیصد پر برقرار رکھی ہے۔ یہ شرح حکومت کے چار فیصد کے سرکاری ہدف سے کم اور عالمی بینک کے تخمینے سے بھی نیچے ہے۔
مالیاتی محاذ پر آئی ایم ایف کے مطابق خطے کی متعدد معیشتوں میں 2026 کے دوران مالیاتی پالیسی نسبتاً نرم رہنے کی توقع ہے، جبکہ 2027 سے مالیاتی استحکام اور اخراجات میں ضبط کی پالیسی دوبارہ شروع ہو سکتی ہے۔











