عالمی یومِ ترجمہ: علم و تہذیب کی منتقلی میں ترجمے کا کردار

ترجمہ محض ایک زبان کے الفاظ کو دوسری زبان میں منتقل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ علم، فکر، تہذیب، ادب اور تجربات کو ایک معاشرے سے دوسرے معاشرے تک پہنچانے کا ایک اہم ذریعہ ہے، انسانی تاریخ میں علم کے پھیلاؤ اور تہذیبوں کے باہمی رابطے میں ترجمے نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔
علم کی منتقلی کا ذریعہ
دنیا میں مختلف زبانوں کے وجود نے جہاں انسانی تہذیب کو رنگا رنگی عطا کی وہیں زبان کا فرق علم کے تبادلے میں ایک رکاوٹ بھی بن سکتا تھا، ترجمے نے اس رکاوٹ کو بڑی حد تک ختم کیا، ایک زبان میں پیدا ہونے والا علمی سرمایہ دوسری زبان بولنے والے لوگوں تک ترجمے کے ذریعے پہنچا اور یوں علم کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں رہا، قدیم زمانے سے ہی فلسفہ، طب، ریاضی، فلکیات، جغرافیہ اور دیگر علوم کی کتابوں کے تراجم نے انسانی علم کے ارتقا میں اہم کردار ادا کیا۔
اسلامی تاریخ میں عباسی دور کا علمی و ترجمے کا کام اس کی نمایاں مثال ہے جب یونانی، فارسی اور دیگر زبانوں کے علمی ذخیرے کا عربی میں ترجمہ ہوا، اس علمی سرگرمی نے مسلمانوں کے علمی اور سائنسی ارتقا میں اہم کردار ادا کیا اور بعد ازاں یہی علمی سرمایہ مختلف راستوں سے یورپ تک پہنچا، آج بھی یہی اصول برقرار ہے، دنیا کے کسی ایک حصے میں ہونے والی سائنسی تحقیق، نئی دریافت، ادبی تخلیق یا فکری بحث اس وقت عالمی سطح پر زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب اسے دوسری زبانوں میں منتقل کیا جائے۔











