خوست بازار کا اچانک دورہ، اسسٹنٹ کمشنر اسرار احمد شاھوانی کی سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد کی ہدایت

ہرنائی: 19 اکتوبر کو ضلع ہرنائی کے انتظامی وژن اور عوامی فلاح کے احکامات کے تحت ضلعی انتظامیہ پوری طرح متحرک نظر آئی۔ اسی سلسلے میں اسسٹنٹ کمشنر خوست اسرار احمد شاھوانی نے خوست بازار کا اچانک اور تفصیلی دورہ کیا۔
دورے کا بنیادی مقصد بازار میں سرکاری نرخناموں پر عملدرآمد کا جائزہ لینا، تجاوزات کا خاتمہ، ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانا اور صفائی ستھرائی کی مجموعی صورتحال کا معائنہ کرنا تھا۔
نرخناموں پر عملدرآمد
اسسٹنٹ کمشنر نے مختلف دکانوں، سبزی و پھل کے ٹالوں، گوشت کی دکانوں (قصابوں) اور جنرل اسٹورز کا باریک بینی سے معائنہ کیا۔ انہوں نے روزمرہ استعمال کی اشیاء، خصوصاً تازہ سبزیوں، گوشت اور عام استعمال کی اشیاء کے داموں کو چیک کیا۔
انہوں نے دکانوں کے مالکان کو سخت ہدایت کی کہ حکومت کی طرف سے منظور شدہ اور مقرر کردہ سرکاری قیمتوں کی فہرست (Official Price List) اپنی دکانوں پر نمایاں جگہ پر آویزاں کریں اور اشیاء صرف طے شدہ نرخوں پر ہی فروخت کریں۔
صارفین سے سرکاری نرخوں سے زائد وصولی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ جو دکان دار منافع خوری یا سرکاری احکامات کی خلاف ورزی میں ملوث پایا گیا، اس کے خلاف سخت قانونی اور تعزیراتی کارروائی کی جائے گی۔
تجاوزات، ٹریفک اور صفائی
اسسٹنٹ کمشنر نے شہریوں، خریداروں اور بزرگوں کی آمدورفت میں آسانی کے لیے اہم شاہراہوں اور فٹ پاتھوں کا جائزہ لیا۔ دکان داروں کو ہدایت کی گئی کہ سامان اور تجاوزات سڑکوں پر نہ پھیلائیں تاکہ راستے بند نہ ہوں۔
گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پیدل چلنے والوں کے لیے ٹریفک کے نظام کو رواں رکھنے کے لیے موقع پر ہی ضروری احکامات جاری کیے گئے۔
معائنے کے دوران صفائی اور حفظان صحت کے اصولوں کا بھی جائزہ لیا گیا۔ کوڑے کرکٹ کے مناسب نکاس اور صفائی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعلقہ عملے کو سخت ہدایات دی گئیں۔ دکان داروں کو پابند کیا گیا کہ دکانوں کے سامنے صفائی کا خصوصی خیال رکھیں تاکہ عوام کو صاف ستھرا اور صحت مند ماحول مل سکے۔
اسسٹنٹ کمشنر نے واضح کیا کہ عوامی فلاح کے اصولوں اور قانون کی پاسداری کو یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ ایسے اچانک معائنے اور دورے مستقبل میں بھی باقاعدگی سے جاری رہیں گے تاکہ عوام کو مہنگائی، ناجائز منافع خوری اور بدانتظامی سے مکمل تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











