رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 22° صاف 23° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
پیپلز پارٹی اقتدار کے لیے اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کرتی: شرجیل میمندہشت گردی کا بہانہ بنا کر گورنر راج لگایا گیا، ہم دہشت گردی کے خلاف ریاست کے ساتھ ہیں: بیرسٹر گوہراپوزیشن نے سہیل آفریدی اور ارکان کی مبینہ حراست کا معاملہ قومی اسمبلی میں اٹھا دیالاہور میں نان کی قیمت 5 روپے بڑھ کر 35 روپے ہو گئی، روٹی 20 روپے پر برقرارانڈر 17 ون ڈے: پاکستان نے سری لنکا کو پانچ وکٹوں سے ہرا دیا، سیریز میں 1-2 کی برترییوکرین کے لیے جنگ ختم کرنے کا وقت آ گیا ہے: ٹرمپ، اوسلو مذاکرات کے بعد ایلچی وٹکوف روس میںٹیلر سوئفٹ نیلے لباس میں سنڈریلا لک کی وجہ سے مداحوں کی توجہ کا مرکزخلیجی کشیدگی کے پیش نظر مانیٹری پالیسی میں شرح سود نہ بڑھائی جائے: فیصل معیز خاناسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس 26 اکتوبر کو، شرح سود میں اضافے کا امکانپاکستان، ترکیہ، قطر اور انڈونیشیا کا دوحہ میں «بدر» دفاعی مفاہمتی یادداشت پر دستخطخیبرپختونخوا اسمبلی کے تمام ارکان پارٹی کے ساتھ متحد ہیں: بیرسٹر گوہرجامعہ تربت کے شعبہ تعلیم کے بورڈ آف اسٹڈیز کا چھٹا اجلاس، ایم فل ایجوکیشن نصاب کا جائزہ

ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی

ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب نے یورپ کیلئے تیل کی سپلائی روک دی

سعودی عرب نے یورپی صارفین کو آگاہ کیا ہے کہ ستمبر میں لوڈ ہونے والے خام تیل کے کچھ کارگو منسوخ کئے جائیں گے جبکہ بحیرہ احمر کی بندرگاہ ینبع سے تیل کی لوڈنگ بھی معطل کر دی گئی ہے۔

یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب ڈرون حملوں میں سعودی عرب کی اہم ایسٹ ویسٹ آئل پائپ لائن کو نقصان پہنچا، سعودی عرب نے ان حملوں کا الزام عراقی ملیشیا پر عائد کیا ہے۔

حملوں کے بعد سعودی حکام نے جمعہ کو مشرق سے مغرب تک صحرا میں قائم تیل کی پائپ لائن بند کر دی جو گزشتہ 6 ماہ کے دوران آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات سے سعودی تیل کی برآمدات کو بڑی حد تک محفوظ رکھنے میں مدد دیتی رہی تھی۔

رائٹرز کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے بحیرہ احمر کے راستے تیل کی سپلائی میں کمی کے بعد یورپی صارفین، بالخصوص پولینڈ، متبادل تیل کی تلاش میں تیزی لانے پر مجبور ہوگئے ہیں۔

تجارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اب آبنائے ہرمز کے راستے مزید تیل برآمد کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس مقصد کیلئے نام نہاد ڈارک شپمنٹس کا سہارا لیا جا سکتا ہے، جیسا کہ متحدہ عرب امارات اور عراق پہلے ہی کر رہے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایسی خفیہ یا غیر روایتی شپمنٹس کے ذریعے خلیجی تیل پیدا کرنے والے ممالک جنگ سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں تقریباً 70 لاکھ سے 90 لاکھ بیرل یومیہ تیل برآمد کرنے میں کامیاب رہے ہیں، جو جنگ سے پہلے کے حجم کا تقریباً 30 سے 40 فیصد بنتا ہے۔

موضوعات: