نتن یاہو کے دفتر کا بیان: یورپی سفارتکاروں پر حملے کی مذمت نہیں، الزام مہم پر عائد

تل ابیب: اسرائیلی وزیراعظم نتن یاہو کے دفتر نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قافلے کی صورت سفر کرنے والے یورپی سفارتکاروں پر حملہ آور یہودی آباد کاروں کو گرفتار کرنے کے بجائے الزام سمیر مہم پر لگا دیا کہ یہ مہم ہی یہودی آباد کاروں کی بدنامی کے لیے ہے۔
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں جاری کیا گیا جب مقبوضہ مغربی کنارے سے گزرنے والے یورپی سفارتکاروں کی گاڑیاں اور ان پر سوار سفارتکار پرتشدد یہودی آباد کاروں کی زد پر آ گئے تھے۔ اس دوران فرانس کے ایک میئر کے زخمی ہونے کی خبر بھی سوشل میڈیا پر پھیل گئی۔
اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں اس افسوس ناک واقعے کی کوئی مذمت نہیں کی گئی۔ الٹا یہودی آباد کاروں کو مظلوم ظاہر کیا گیا کہ انہیں بدنام کیا جا رہا ہے۔
بیان میں وزیراعظم کے دفتر نے الزام لگایا کہ سمیر نامی مہم یہودی آباد کاروں کے خلاف شکوک و شبہات پیدا کرنے کے لیے ایسے مجرمانہ فعل انجام دے رہی ہے، تاکہ یورپی سفارتکاروں پر حملے کے حالات و واقعات کا رخ یہودی آباد کاروں کی طرف موڑ دیا جائے۔
نتن یاہو نے اس تناظر میں یہودی آباد کاروں کی مذمت کرنے یا گرفتاری کا اعلان کرنے کے بجائے انہی کے ساتھ کھڑے ہونے کو ترجیح دی ہے، باوجود اس کے کہ ان آباد کاروں نے یورپی ملکوں کے سفارتکاروں کے ایک وفد کے قافلے کو نشانہ بنایا ہے۔
آباد کاروں کے حملے
نتن یاہو کی حکومت کی وجہ سے یہودی آباد کاروں نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد واقعات کو معمول بنا رکھا ہے۔ ان واقعات کے سنگین تر اور متواتر ہونے کے باعث امریکا اور یورپ سے بھی مذمتی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں۔
بیان میں الزام لگایا گیا ہے کہ یہ مہم یہودی مذہبی علاقوں میں رہائش رکھنے والے آباد کاروں کو ایک مربوط مہم کا ہدف بنا رہی ہے، تاکہ زیتون کی فصل کٹنے کے اس موسم میں سنسنی خیز سرخیاں اخباروں میں شائع ہو سکیں۔ بیان میں مقبوضہ مغربی کنارے کے لیے یہودی مذہبی نام استعمال کیے گئے۔
آباد کاروں کا یہ معمول بن چکا ہے کہ زیتون کی فصل پکنے پر حملے باغات تک پھیلا دیتے ہیں، تاکہ فلسطینی اپنے باغات سے زیتون کا پھل نہ اتار سکیں۔











