ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا

انقرہ: ترکی نے پاکستان اور سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد توثیق کے لیے پارلیمنٹ میں پیش کر دیا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے منگل کو تین پارلیمانی ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی۔
تینوں ممالک نے اس معاہدے پر اگست میں دستخط کیے تھے۔ روئٹرز کے مطابق اس اقدام سے نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھنے والا ملک ترکی، ریاض کے ساتھ باقاعدہ باہمی دفاعی وابستگی کے قریب پہنچ گیا ہے، جبکہ سعودی عرب کو حوثی حملوں کا سامنا ہے۔ ادارے کے مطابق معاہدہ ابتدائی 10 برس کے لیے تینوں ممالک پر لازم ہوگا۔
معاہدے کے تحت کسی ایک رکن ملک پر مسلح حملہ تمام ارکان پر حملہ تصور ہوگا اور فریقین بیرونی جارحیت کے خلاف ایک دوسرے کی مدد کے پابند ہوں گے۔ روئٹرز کے دیکھے گئے متن کے مطابق پہلی شق میں کہا گیا ہے کہ فریقین ایک دوسرے کی علاقائی سالمیت، خودمختاری یا بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ سرحدوں کو لاحق خطرات ختم کرنے کے لیے ہر ضروری ذریعہ استعمال کریں گے۔
دوسری شق کے مطابق کسی ملک یا ممالک کے گروہ کی جانب سے کسی فریق پر مسلح حملے یا فوجی جارحیت کی صورت میں باقی فریق دستیاب تمام باہمی امدادی اقدامات بروئے کار لاتے ہوئے فوری مدد فراہم کریں گے۔ یہ شق نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہ ہے۔
دوسری جانب مسلم انسٹیٹیوٹ نے جھنگ میں دربار حضرت سلطان باہو پر پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے اتحاد اور معاہدہ مکہ کی علامت کے طور پر انسانی تشکیل کا اہتمام کیا، جس میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔ اس موقع پر تینوں ممالک کے پرچم لہرائے گئے، قومی ترانے بجائے گئے اور «اسلام امن ہے» کے نعرے لگائے گئے۔











