کوئٹہ میں پانی کا بحران: واسا کے 544 میں سے 167 ٹیوب ویلز فنڈز کی کمی سے غیر فعال، کمشنر ذیشان لاشاری کا اجلاس

کوئٹہ: کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیر صدارت کوئٹہ شہر میں شہریوں کو پانی کی فراہمی، واسا کی کارکردگی اور انتظامی امور کے حوالے سے اجلاس منعقد ہوا، جس میں ایم ڈی واسا مجیب الرحمن کاکڑ سمیت متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
ایم ڈی واسا نے کمشنر کو شہر میں فراہمی آب کی صورتحال، واسا کو درپیش مشکلات، غیر فعال ٹیوب ویلز، مالی مسائل اور دیگر انتظامی امور پر تفصیلی بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں واسا کے مجموعی طور پر 544 ٹیوب ویلز ہیں، جن میں سے 387 فعال ہیں جبکہ 167 ٹیوب ویلز فنڈز کی کمی کے باعث غیر فعال ہیں اور ان کی مرمت نہیں ہو سکی۔ واسا کوئٹہ میں فراہمی آب کے نظام کو دو زونز، چلتن زون اور زرغون زون، میں تقسیم کرکے شہریوں کو پانی فراہم کر رہا ہے۔
طلب 60 ملین گیلن، فراہمی 31 ملین گیلن
اجلاس کو بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں شہریوں کی روزانہ پانی کی ضرورت تقریباً 60 ملین گیلن ہے، جبکہ واسا اس وقت تقریباً 31 ملین گیلن پانی روزانہ فراہم کر رہا ہے۔ طلب اور رسد کے اس نمایاں فرق کو بڑی حد تک نجی ٹیوب ویلز کے ذریعے پورا کیا جا رہا ہے۔ واسا کے ٹیوب ویلز کے علاوہ شہر میں تقریباً 998 زرعی اور 1400 کے قریب کمرشل ٹیوب ویلز بھی موجود ہیں، جن میں سے بیشتر نجی کمرشل ٹیوب ویلز غیر رجسٹرڈ ہیں۔
ایم ڈی واسا نے بتایا کہ واسا کو غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی کے ساتھ ساتھ ملازمین کی تنخواہوں، بجلی کے بلوں، کنٹیجنسی اخراجات، ٹیوب ویلز کی مرمت اور دیگر ضروری مینٹیننس کے لیے اضافی فنڈز کی ضرورت ہے، اور مالی وسائل کی کمی کے باعث متعدد ٹیوب ویلز کی مرمت اور بحالی کا عمل متاثر ہو رہا ہے۔
اجلاس میں بتایا گیا کہ کوئٹہ شہر میں گھریلو و کمرشل صارفین کی تعداد 97 ہزار سے زائد ہے، جن سے واسا کو تقریباً 240 ملین روپے سالانہ ریونیو حاصل ہوتا ہے۔ صوبائی بجٹ میں واسا کے لیے تقریباً 3 ارب 705 ملین روپے مختص کیے جاتے ہیں جبکہ ادارے کے مجموعی اخراجات 4 ارب 64 ملین روپے سے زائد ہیں، جس کے باعث اسے مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ دشت وال فیلڈ بند ہونے کے باعث سریاب کے بعض علاقوں میں پانی کی فراہمی بھی متاثر ہے۔
کمشنر ذیشان لاشاری نے ہدایت کی کہ شہریوں کو پانی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں، غیر فعال ٹیوب ویلز کی بحالی اور مرمت کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں اور دستیاب وسائل کو بہتر انداز میں بروئے کار لایا جائے۔ انہوں نے ٹیوب ویلز کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کے حوالے سے جامع تجاویز مرتب کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ بجلی کے اخراجات کم ہوں اور فراہمی آب کا نظام زیادہ مؤثر اور پائیدار بنے۔ انہوں نے کہا کہ واسا کے انتظامی و مالی مسائل کے حل کے ساتھ شہریوں کو بلا تعطل پانی کی فراہمی کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی ناگزیر ہے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











