آرچر روڈ کوئٹہ پر متروکہ اوقاف اراضی پر پلازہ: کمشنر ذیشان لاشاری نے مکمل رپورٹ طلب کر لی

کوئٹہ: کمشنر کوئٹہ ڈویژن ذیشان لاشاری کی زیرِ صدارت آرچر روڈ پر متروکہ اوقاف املاک بورڈ کی اراضی پر زیر تعمیر کمرشل پلازہ کے معاملے پر اہم اجلاس ہوا، جس میں منصوبے کے قانونی تقاضوں، تعمیراتی اجازت ناموں اور سکھ برادری کے تحفظات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن کوئٹہ بشیر احمد بڑیچ، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہر اللہ بادینی، ڈپٹی کمشنر کوئٹہ ویسٹ منیر احمد درانی، سکھ برادری کے نمائندے اور متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے افسران شریک ہوئے۔
ایڈمنسٹریٹر میٹروپولیٹن کارپوریشن نے بتایا کہ منصوبے کے کنٹریکٹر نے کارپوریشن سے این او سی، منظور شدہ نقشہ اور دیگر ضروری قانونی دستاویزات مکمل کیے بغیر ڈبل بیسمنٹ کی تعمیر شروع کر دی تھی، جس پر کارپوریشن نے فوری کارروائی کر کے غیر قانونی تعمیراتی کام رکوا دیا۔ سڑک کو کلیئر رکھنے اور عوام کی حفاظت کے لیے پروٹیکشن وال بھی لگائی گئی ہے، اور منصوبے میں میونسپل قوانین اور دیگر قانونی تقاضوں کی پابندی ضروری ہے۔
متروکہ اوقاف کا مؤقف اور سکھ برادری کے تحفظات
متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے حکام نے بتایا کہ اس اراضی پر کوئی گوردوارہ موجود نہیں تھا بلکہ یہ بورڈ کی ملکیتی اراضی ہے جو ماضی میں ایک اسکول کو کرائے پر دی گئی تھی۔ ان کے مطابق کمرشل استعمال سے قبل قانونی کارروائی، ٹینڈرنگ اور دیگر ضابطے مکمل کیے گئے، جس کے بعد پلازہ کی تعمیر کا ٹینڈر جاری ہوا۔ نقشہ منظور نہ کرانے اور این او سی نہ لینے کی ذمہ داری کنٹریکٹر پر عائد ہوتی ہے، جس کے خلاف ٹینڈر کی شرائط کے مطابق کارروائی بھی کی جائے گی۔
سکھ برادری کے نمائندوں نے پلازہ کی تعمیر پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں برادری کو اعتماد میں نہیں لیا گیا، جس کی وجہ سے ان کے تحفظات اب تک برقرار ہیں۔
کمشنر ذیشان لاشاری نے متروکہ اوقاف املاک بورڈ کے افسران کو ہدایت کی کہ آرچر روڈ پلازہ منصوبے سے متعلق تمام قانونی دستاویزات، ٹینڈر کی تفصیلات، کنٹریکٹر کے ساتھ معاہدے کی نقول اور آئندہ لائحہ عمل پر مکمل رپورٹ پیش کی جائے۔ انہوں نے منصوبے کے قانونی پہلوؤں کا مکمل جائزہ لینے اور سکھ برادری کے تحفظات باہمی مشاورت سے شفاف انداز میں دور کرنے کی بھی ہدایت کی۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











