وزیر داخلہ بلوچستان ضیاء اللہ لانگو: مذاکرات سے انکار نہیں، مگر بندوق کے زور پر بات چیت نہیں ہوگی

کوئٹہ: صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا ہے کہ ہمیں تشدد کے بجائے قلم، تباہی کے بجائے ترقی اور نفرت کے بجائے امن کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کبھی مذاکرات سے انکار نہیں کیا، تاہم بندوق کے زور پر مذاکرات کسی صورت نہیں ہوں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔
صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ ہمیں اب اس بحث سے نکلنا ہوگا کہ مذاکرات کس سے ہونے چاہئیں اور کس سے نہیں، بلکہ اپنی توجہ بلوچستان اور پاکستان کی ترقی، امن، خوشحالی اور عوام کے بہتر مستقبل پر مرکوز کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں مل کر دہشت گردی، تشدد اور نفرت کو مسترد کرنا ہوگا۔ جو عناصر ہمارے امن کو تباہ، عوام کو تقسیم اور معصوم جانوں کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں، ان کے عزائم کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ ہماری اصل طاقت اتحاد، تعلیم، محنت، شعور اور اپنے وطن سے محبت ہے۔
میر ضیاء اللہ لانگو نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ قلم کو اپنا ہتھیار بنائیں، تعلیم حاصل کریں اور پارلیمانی و جمہوری جدوجہد کے ذریعے ملک اور قوم کی تقدیر بدلنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
آئین تسلیم کرنے والوں کے لیے مذاکرات کے دروازے کھلے
انہوں نے کہا کہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک کو دیکھیں جہاں عوام اپنی ریاست اور آئینی اداروں کے ساتھ کھڑے ہو کر ترقی کی منازل طے کر رہے ہیں۔ دنیا میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی جہاں ریاست اور آئین کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں کے سامنے ریاستی نظام کو کمزور کیا گیا ہو۔
صوبائی وزیر داخلہ کے مطابق مذاکرات کے دروازے ان لوگوں کے لیے کھلے ہیں جو پاکستان کے آئین اور ریاستی نظام کو تسلیم کرتے ہیں، تاہم بندوق، دہشت گردی اور تشدد کے ذریعے اپنی بات منوانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا بلوچستان اور پاکستان تشکیل دینا ہوگا جہاں امن، تعلیم، روزگار، ترقی اور خوشحالی ہو۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











