کوئٹہ سمیت پانچ اضلاع میں پانچ روزہ پولیو بوسٹر مہم شروع، ساڑھے تین لاکھ بچوں کو قطرے پلانے کا ہدف

کوئٹہ: سیکرٹری صحت بلوچستان مجیب الرحمن نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پولیو کے خلاف جاری بھرپور جدوجہد کے نتیجے میں گزشتہ 21 ماہ کے دوران پولیو کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم پڑوسی ممالک اور دیگر علاقوں سے پولیو وائرس کی منتقلی کے خدشات کے پیش نظر کوئٹہ سمیت صوبے کے پانچ اضلاع میں پانچ روزہ پولیو بوسٹر مہم شروع کر دی گئی ہے۔
مہم کے دوران پانچ سے دس سال تک عمر کے ساڑھے تین لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ پانچ ہزار سکول اور مدارس بھی مہم کے ہدف میں شامل ہیں۔
مہم کا افتتاح کرتے ہوئے سیکرٹری صحت نے کہا کہ عوامی تعاون اور بھرپور فوکس کے ذریعے ہم اس موذی مرض کو جڑ سے اکھاڑنے میں کامیاب ہوں گے۔ پولیو کے قطرے بچوں میں بیماریوں کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھانے کے ساتھ ساتھ پولیو وائرس کے سرکولیشن کا سلسلہ توڑنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ بلوچستان میں پولیو کے کیسز رپورٹ نہیں ہوئے، تاہم ہمسایہ ممالک یا دیگر علاقوں سے ماحول میں پولیو وائرس کے آنے کے خدشات بدستور موجود ہیں، انہی خدشات کے پیش نظر پانچ سے دس سال تک عمر کے بچوں کے لیے یہ بوسٹر مہم شروع کی گئی ہے۔
اساتذہ، والدین اور مدارس سے اپیل
مجیب الرحمن نے اساتذہ، والدین اور مدارس کے مہتمم حضرات سے اپیل کی کہ وہ مہم کو کامیاب بنانے کے لیے محکمہ صحت کا بھرپور ساتھ دیں تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے جا سکیں۔
انہوں نے بتایا کہ فی الحال مہم کوئٹہ بلاک میں جاری ہے، جس کے بعد سیمپلز اور ڈیٹا کی بنیاد پر آئندہ کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ماہانہ بنیادوں پر چیف سیکرٹری بلوچستان کی زیرِ صدارت اجلاس بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔ سیکرٹری صحت نے مزید کہا کہ اگر ضرورت محسوس ہوئی تو پولیو بوسٹر مہم کو دوسرے اضلاع تک بھی پھیلایا جائے گا، فی الحال ان علاقوں میں مہم جاری ہے جہاں اس کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











