پیشکان میں ڈپٹی کمشنر گوادر کی کھلی کچہری، ماہی گیروں اور فیکٹری مالکان کا چھ ماہ پرانا تنازع حل

گوادر: وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے عوام دوست وژن کے تحت عوامی مسائل کے فوری حل اور شہریوں کو ان کی دہلیز پر ریلیف کی فراہمی کے سلسلے میں ڈپٹی کمشنر گوادر نقیب اللہ کاکڑ نے رکن صوبائی اسمبلی مولانا ہدایت الرحمان بلوچ کے ہمراہ پیشکان کا دورہ کیا۔ کھلی کچہری اور بلوچی دیوان کے دوران مقامی افراد، ماہی گیروں، کاروباری حضرات اور دیگر عمائدین سے ملاقات کر کے ان کے مسائل سنے گئے۔
کھلی کچہری میں عوام نے اراضی، پیشکان جیٹی کی صفائی، بنیادی سہولیات اور دیگر مسائل پیش کیے، جن کے حل کے لیے ڈپٹی کمشنر نے متعلقہ محکموں کو موقع پر ہی ضروری ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ضلعی انتظامیہ کے دائرۂ اختیار میں آنے والے مسائل بلا تاخیر حل کیے جائیں، جبکہ صوبائی سطح سے متعلق معاملات اعلیٰ حکام تک پہنچائے جائیں گے۔
بلوچی دیوان میں چھ ماہ سے جاری تنازع کا خاتمہ
بلوچی دیوان کے دوران ماہی گیروں اور کاروباری و فیکٹری مالکان کے درمیان گزشتہ چھ ماہ سے جاری تنازع بھی باہمی مشاورت اور اتفاقِ رائے سے حل کرا دیا گیا۔ دونوں فریقین نے ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں معاملہ حل کرنے کا اختیار دیا، جس کے بعد باقاعدہ معاہدے پر دستخط کیے گئے۔
معاہدے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے دونوں فریقین کو بغل گیر کرا کے اختلافات کے خاتمے اور باہمی بھائی چارے کے فروغ کی عملی مثال قائم کی۔ انہوں نے کہا کہ علاقے کی ترقی، معاشی سرگرمیوں کے فروغ اور عوامی مفاد کے لیے باہمی تعاون، برداشت اور افہام و تفہیم کو فروغ دینا ناگزیر ہے۔
پیشکان کے عوامی و سماجی حلقوں نے مولانا ہدایت الرحمان بلوچ اور ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی جانب سے عوامی مسائل براہِ راست سننے اور دیرینہ تنازع کو مشاورت کے ذریعے حل کرانے کے اقدام کو سراہتے ہوئے اسے عوامی خدمت اور مؤثر انتظامی کاوش قرار دیا۔
اس موقع پر اسسٹنٹ کمشنر جیوانی طارق امام بلوچ، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل ڈاکٹر عبدالش ور، محکمہ فشریز کے افسران، ماہی گیر، کاروباری و فیکٹری مالکان اور علاقے کے دیگر عمائدین بھی موجود تھے۔ ضلعی انتظامیہ گوادر نے عزم ظاہر کیا کہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی بہتری، ماہی گیروں کے مفادات کے تحفظ اور علاقے میں امن و بھائی چارے کے فروغ کے لیے مؤثر اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











