رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 13° جزوی بادل 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:16مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
تربت: جامعہ تربت میں وائس چانسلر کی ہدایت پر المنائی نیٹ ورکنگ کا آغازکوئٹہ: ظہور بلیدی کی مینا مجید بلوچ کے بھائی کے اغوا کی شدید مذمتسوراب: ڈپٹی کمشنر صاحبزادہ نجیب اللہ کی صدارت میں ایجوکیشن گروپ کا اجلاس، اساتذہ کی غیر حاضری پر برہمیژوب کلچر سینٹر میں فائن آرٹس اور خطاطی کلاسز کے داخلے جاری، کلاسز 2 نومبر سےچمن: ڈپٹی کمشنر حبیب احمد بنگلزئی سے قبائلی جرگے کے وفد کی ملاقات، بارڈر بندش اور عوامی مسائل پر تبادلہ خیالچمن: کیسکو کی پولیس کے تعاون سے ریکوری مہم، نادہندگان سے 2 لاکھ 55 ہزار روپے وصولاوتھل: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی صدارت میں محکمہ مواصلات و تعمیرات کے منصوبوں پر اجلاساُستا محمد: مارکیٹ کمیٹی کا اجلاس، اناج منڈی فعال بنانے اور خرید و فروخت جلد شروع کرنے پر غورکوئٹہ: اسپیکر عبدالخالق اچکزئی کی رولنگ پر ڈی آئی جی خضدار رینج طلب، پولیس کو شفاف تحقیقات کی ہدایتاُستا محمد: اسسٹنٹ کمشنر ماریہ شمعون کا کاشف GO پٹرول پمپ کا دورہ، فیول ریلیف اسکیم پر عملدرآمد کا جائزہرکھنی: اسسٹنٹ کمشنر فہد حسین عمرانی کا ماڈل بازار کی توسیع اور تعمیراتی کام کا معائنہموسیٰ خیل: ڈپٹی کمشنر عبدالرزاق خان خجک کا بی ایس ڈی آئی واٹر سپلائی اسکیم تارہ کسور کی جگہ کا معائنہ

گیس شعبے کی اصلاحات مرحلہ وار اور مشاورت سے ہوں گی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب

گیس شعبے کی اصلاحات مرحلہ وار اور مشاورت سے ہوں گی: وزیر خزانہ محمد اورنگزیب
تصویر: پی آئی ڈی

اسلام آباد: وفاقی وزیرِ خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے گیس کے شعبے میں اصلاحات پر مرحلہ وار اور مشاورت کے ذریعے عملدرآمد کرنے کے حکومتی عزم کا اعادہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مالی پائیداری کو مضبوط بنانے، آپریشنل کارکردگی میں بہتری، سرمایہ کاری کے فروغ اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے گیس کی زیادہ مسابقتی منڈی تشکیل دینے کے لیے تمام کوششیں یقینی بنائی جا رہی ہیں۔

وہ پیر کو پاکستان کے گیس کے شعبے میں تنظیمِ نو اور ڈی ریگولیشن کے مجوزہ لائحہ عمل کا جائزہ لینے کے لیے منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔ اجلاس میں مالی استحکام، آپریشنل کارکردگی، صارفین کے مفادات کے تحفظ اور نجی شعبے کی زیادہ سے زیادہ شمولیت پر توجہ مرکوز کی گئی۔

اجلاس میں زیر غور مسائل

اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ اصلاحات کا مقصد گیس کی ایک ایسی مالی طور پر پائیدار، مؤثر اور مسابقتی منڈی قائم کرنا ہے جس سے کاروباری سرگرمیوں کو سہارا ملے، نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہو اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

اجلاس میں مؤثر ضابطہ کاری، آپریشنل کارکردگی میں بہتری اور گیس کی قیمتوں کے تعین اور فراہمی کے لیے زیادہ پائیدار طریق کار کے تحت مرحلہ وار مسابقتی نظام کی جانب پیشرفت پر غور کیا گیا۔

گیس کے شعبے کو درپیش اہم مسائل کا جائزہ لیا گیا جن میں گردشی قرضہ، مختلف صارفین کے لیے قیمتوں میں باہمی اعانت (کراس سبسڈی)، گیس کے غیر حساب شدہ نقصانات (یو ایف جی) اور رسد و طلب میں عدم توازن شامل ہیں۔

شرکا نے سابقہ مالی واجبات کے تصفیے، گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں کی مالی حیثیت بہتر بنانے اور اس امر کو یقینی بنانے پر تبادلہ خیال کیا کہ ماضی کے مالی مسائل مجوزہ منڈی کے ڈھانچے کو متاثر نہ کریں اور صارفین پر بھی غیر ضروری بوجھ نہ پڑے۔

اجلاس میں زور دیا گیا کہ گردشی قرضے کے سابقہ واجبات کا پائیدار حل اور کراس سبسڈی کے خاتمے یا اس میں اصلاح کے لیے واضح حکمتِ عملی، تنظیمِ نو کے بعد قائم ہونے والے اداروں کی مالی پائیداری اور مسابقتی منڈی کی جانب منتقلی کے لیے نہایت اہم ہے۔

متوقع نتائج

اجلاس میں مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک کے متوقع نتائج پر بھی غور کیا گیا جن میں توانائی کا تحفظ اور فراہمی کا استحکام، نجی شعبے کی سرمایہ کاری میں اضافہ، مالیاتی اور حکومتی ضمانتوں سے متعلق خطرات میں کمی، کاروباری اداروں کے درمیان گیس کی براہِ راست خرید و فروخت کو فروغ دینا، قیمتوں میں زیادہ استحکام اور پائیداری، برآمد کنندگان کو مسابقتی نرخوں پر گیس کی بہتر دستیابی اور کارکردگی کے مؤثر معیارات اور کارکردگی سے مشروط مراعات کے ذریعے نظام میں گیس کے نقصانات میں کمی شامل ہیں۔

وفاقی وزیرِ خزانہ نے زور دیا کہ تمام متعلقہ فریقوں کو اصلاحات کے ایک ایسے عملی اور قابلِ نفاذ نظام پر متفق کیا جائے جس پر مؤثر انداز میں عملدرآمد ممکن ہو۔

مجوزہ فریم ورک کی تیاری میں ترکیہ اور برطانیہ سمیت دیگر ممالک میں گیس کے شعبے کی اصلاحات کے بین الاقوامی تجربات سے استفادہ کیا گیا ہے، تاہم پاکستان کے ادارہ جاتی ڈھانچے، منڈی کے حالات اور صارفین کے مفادات کو بھی مدِنظر رکھا گیا ہے۔

شرکا نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اصلاحات پر مرحلہ وار اور مناسب ترتیب سے عمل کیا جائے تاکہ گیس کی فراہمی کا تسلسل برقرار رہے، ضابطہ جاتی نظام کے تحت آنے والے صارفین کے مفادات کا تحفظ ہو اور نجی شعبے کی شمولیت کے لیے ایک مستحکم اور قابلِ پیش گوئی ماحول فراہم کیا جا سکے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ مجوزہ اصلاحاتی فریم ورک وزیراعظم کے سامنے پیش کیا جائے گا، جس کے بعد مزید تکنیکی کام اور متعلقہ فریقوں سے مشاورت کے ذریعے اصلاحات کے طریق کار کو مزید بہتر بنایا جائے گا اور اس نظام کی جانب منظم انداز میں منتقلی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی۔

اجلاس میں حکومت کے اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ گیس کے شعبے میں اصلاحات پر مرحلہ وار اور مشاورت کے ذریعے عملدرآمد کیا جائے گا تاکہ مالی پائیداری کو مضبوط بنایا جا سکے، آپریشنل کارکردگی بہتر ہو، سرمایہ کاری کو فروغ ملے اور صارفین کے مفادات کا تحفظ یقینی بناتے ہوئے گیس کی زیادہ مسابقتی منڈی تشکیل دی جا سکے۔

اجلاس میں وفاقی وزیرِ پٹرولیم، وزیراعظم کے مشیر برائے نجکاری، وزیراعظم کے معاونِ خصوصی برائے توانائی، وزارتِ پٹرولیم اور وزارتِ خزانہ کے سینئر حکام، گیس یوٹیلیٹی کمپنیوں کے نمائندوں اور عالمی بینک کی ٹیم نے شرکت کی۔