گورنمنٹ ڈگری کالج استا محمد میں 929 طلبہ زیر تعلیم، طالبات کی ایوننگ بی ایس کلاسز کو مسائل کا سامنا

استا محمد: پرنسپل گورنمنٹ ڈگری کالج استا محمد پروفیسر عبیداللہ خان زہری نے کہا ہے کہ کالج نصیر آباد ڈویژن میں اعلیٰ تعلیم کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، جہاں بی ایس پروگرامز میں اس وقت 929 طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں جن میں 609 طلباء اور 320 طالبات شامل ہیں۔
ڈپٹی ڈائریکٹر ڈویژنل انفارمیشن نصیر آباد نیک محمد سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ طلباء کا تناسب 65.55 فیصد اور طالبات کا 34.45 فیصد ہے، اور یہاں کچھی، جھل مگسی، جعفرآباد اور صحبت پور سمیت ڈویژن کے مختلف علاقوں سے طلبہ پڑھنے آتے ہیں۔ بی ایس پروگرامز بی ایس کوآرڈینیٹر محمد طاہر کولاچی کی نگرانی میں منظم کیے جا رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ صبح کے اوقات میں طلباء کی بی ایس کلاسز کے لیے 40 اور شام کو طالبات کی کلاسز کے لیے 28 اساتذہ، یعنی مجموعی طور پر 68 اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شام کی کلاسز سے علاقے اور دور دراز کی بچیوں کے لیے اپنے ہی شہر میں اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھلے ہیں۔
ایوننگ کلاسز اور داخلوں کا مسئلہ
پرنسپل کے مطابق اعلیٰ حکام کی خواہش ہے کہ طالبات کی ایوننگ کلاسز کو صبح کی شفٹ میں ضم کر کے کو ایجوکیشن کے تحت چلایا جائے، تاہم مقامی قبائلی و سماجی ماحول میں اس سے عملی مسائل کا خدشہ ہے؛ یہ معاملہ ان کے اختیار سے باہر ہے اور حتمی فیصلہ اعلیٰ سطح پر ہوگا۔ اسی صورتحال کے باعث نئے سیشن 2026ء میں طالبات کے بی ایس داخلے متاثر ہوئے اور بند رہے، تاہم والدین کے مطالبے پر حل کی کوششیں جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر استا محمد محمد رمضان پلال سے ملاقات میں ایوننگ کلاسز کے اساتذہ کے لیے اضافی اعزازیہ، تدریسی عملے کی کمی اور طالبات کے داخلوں پر تبادلہ خیال ہوا، اور ڈپٹی کمشنر نے مسائل اعلیٰ حکام تک پہنچانے اور حل کے لیے ہر ممکن اقدام کی یقین دہانی کرائی۔ پرنسپل نے کہا کہ وزیر اعلیٰ میر سرفراز خان بگٹی اور چیف سیکریٹری کی ترجیحات میں تعلیم نمایاں ہے اور کالج میں بی ایس پروگرامز کو مزید مستحکم کرنا وقت کی ضرورت ہے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











