کمشنر لسبیلہ سائرہ عطاء کا آواران کے ترقیاتی منصوبوں کا جائزہ، 93 اسکولوں کی بندش کی وجوہات طلب

حب: کمشنر لسبیلہ ڈویژن سائرہ عطاء کی زیر صدارت لیڈا کانفرنس ہال میں ضلع آواران کے ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت سے متعلق اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر آواران عقیل کریم نے امن و امان، بی ایس ڈی آئی منصوبوں، صحت، تعلیم، لوکل گورنمنٹ اور روڈ انفراسٹرکچر کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی بریفنگ دی۔
بجلی اور سڑکیں
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلع آواران میں بجلی کی فراہمی جنریٹر پر چل رہی ہے، مشکے سے آواران نیشنل گرڈ لنک کا کام زیرِ التوا ہے اور آواران سے گشکور تک پول کی تنصیب کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ آواران کے 51 فیصد اسکول بجلی کی سہولت سے محروم ہیں۔
روڈ سیکٹر کے بارے میں بتایا گیا کہ این ایچ اے کی نگرانی میں ہوشاب سے آواران سیکشن پر کام جاری ہے، جبکہ 86 کلومیٹر آواران بیلہ روڈ پر کام کرنے والی کنٹریکٹر فرم نے تاحال مشینری سائٹ پر منتقل نہیں کی۔ کمشنر نے ڈی سی کو ہدایت کی کہ این ایچ اے حکام سے فوری رابطہ کر کے کنٹریکٹر کو پابند کیا جائے کہ بیلہ آواران لنک روڈ پر مشینری فوری پہنچائی جائے۔
تعلیم اور صحت
ڈی سی نے بتایا کہ ضلع آواران میں شرح خواندگی 36.3 فیصد ہے، بی ایس ڈی آئی کے پہلے مرحلے میں اسکولوں کی عمارتیں تعمیر کی گئی ہیں اور بچیوں کے داخلے کی شرح بڑھانے اور ڈراپ آؤٹ پر قابو پانے کے لیے خصوصی آگاہی مہم پلان کی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پبلک سروس کمیشن کی جانب سے اسامیاں مشتہر ہونے کے باوجود امیدواروں کی عدم شرکت کے باعث ایس ایس ٹی سائنس کی 90 اور ایس ایس ٹی جنرل کی 106 اسامیاں خالی ہیں۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ ڈویژنل سطح پر محکمہ صحت کی خالی آسامیوں پر کنٹریکٹ پر بھرتیاں کی جا رہی ہیں۔ کمشنر نے ڈویژنل ڈائریکٹر کی فوری تعیناتی، ہیومن ریسورس کی کمی کی نشاندہی اور سیکرٹری ہیلتھ کو لیٹر لکھنے کے احکامات جاری کیے۔
سائرہ عطاء نے ہدایت کی کہ آواران میں 93 اسکولوں کی بندش کی وجوہات سے آگاہ کیا جائے، اساتذہ کی کنٹریکٹ پر فوری تعیناتی اور غیر حاضر تدریسی عملے کی مانیٹرنگ یقینی بنائی جائے۔ انہوں نے کہا کہ وہ جلد آواران کا دورہ کریں گی۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











