کرن بلوچ کی انسدادِ تشددِ اطفال کی پہلی قومی حکمتِ عملی 2026–2031 کی تقریبِ رونمائی میں شرکت

اسلام آباد: بلوچستان کمیشن آن دی اسٹیٹس آف ویمن (BCSW) کی چیئرپرسن کرن بلوچ نے وزارتِ انسانی حقوق کی دعوت پر پاکستان کی پہلی قومی حکمتِ عملی برائے انسدادِ تشددِ اطفال (2026–2031) کی تقریبِ رونمائی میں شرکت کی۔
عالمی ادارۂ صحت (WHO) اور دیگر شراکت داروں کے تعاون سے متعارف کرائی گئی اس حکمتِ عملی کا مقصد بچوں کو ہر قسم کے تشدد سے محفوظ رکھنا، ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا اور انہیں محفوظ ماحول فراہم کرنا ہے۔
کرن بلوچ نے کہا کہ بچوں کے خلاف تشدد کا خاتمہ اہم قومی ذمہ داری ہے، جس کے لیے حکومت، متعلقہ اداروں، سول سوسائٹی اور معاشرے کے تمام طبقات کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ہر بچے کو تحفظ، تعلیم، عزت و احترام اور صلاحیتیں نکھارنے کے مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ تشدد کی روک تھام کے لیے مؤثر قانون سازی، موجودہ قوانین پر عملدرآمد، عوامی آگاہی اور متاثرہ بچوں کو بروقت معاونت ناگزیر ہے، اور ایسا نظام تشکیل دیا جائے جہاں بچے بلا خوف شکایت کر سکیں اور انہیں فوری انصاف اور تحفظ ملے۔
چیئرپرسن بی سی ایس ڈبلیو نے کہا کہ بچیوں کو بالخصوص تشدد، استحصال، کم عمری کی شادی اور دیگر امتیازی رویوں سے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ قومی حکمتِ عملی پر مؤثر عملدرآمد سے بچوں کے حقوق کے تحفظ، صنفی مساوات کے فروغ اور محفوظ و منصفانہ معاشرے کے قیام میں مدد ملے گی۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











