ڈپٹی کمشنر حب جمعداد مندوخیل کی ساحلی بستی ڈام میں کھلی کچہری، ماہیگیروں کو آبنوشی کی سہولیات کی یقین دہانی

وندر: ڈپٹی کمشنر حب جمعداد مندوخیل نے کہا ہے کہ ساحلی بستی ڈام کے ماہیگیروں کے بنیادی مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کیے جائیں گے اور بی ایس ڈی آئی اسکیمات میں وندر کی ساحلی ماہیگیر بستیوں کے مکینوں کو آبنوشی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
وہ تحصیل وندر سونمیانی کی ساحلی بستی ڈام کے ماہیگیروں کے مسائل سے متعلق کھلی کچہری سے خطاب کر رہے تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے ماہیگیروں کے مسائل توجہ سے سنے، انہیں حل کرنے کی یقین دہانی کرائی اور کہا کہ ان کی شکایات پر انکوائری ہوگی۔ انہوں نے احکامات جاری کیے کہ پی ایس ڈی پی کے جاری ترقیاتی منصوبوں کے تمام کنٹریکٹرز اور متعلقہ محکمے پیر کے دن ڈی سی آفس میں رپورٹ پیش کریں۔
ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ نشاندہی کیے گئے مسائل پر انتظامیہ منظم انداز میں جامع پلان تیار کرے گی۔ وندر ڈیم کینال سے ساحلی بستی ڈام تک پمپنگ اسٹیشن اور نئی پائپ لائنوں کی اسکیمات بی ایس ڈی آئی میں شامل کی جائیں گی اور سیوریج لائن سمیت ڈام بندر کے مکینوں کے بنیادی مسائل حل کیے جائیں گے۔
ماہیگیروں کے مطالبات
ماہیگیروں نے شکایت کی کہ اربوں روپے لاگت کی اسکیمات منظور ہوئیں لیکن ماہیگیری کی صنعت سے وابستہ غریب مچھیرے ان منصوبوں کے ثمرات سے محروم ہیں۔ انہوں نے بلوچستان کی سمندری حدود میں غیر قانونی طور پر داخل ہونے والے ٹرالرز اور غیر قانونی شکار کرنے والی لانچوں کے خلاف فوری، مؤثر اور بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کیا۔
ماہیگیر نمائندوں، علاقائی عمائدین اور کونسلرز نے کہا کہ سمندری حیات اور مچھلی کے ذخائر کا تحفظ صرف ماہیگیروں ہی نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت اور آنے والی نسلوں کے مستقبل کے لیے بھی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ملکی معیشت کے لیے اربوں روپے کا زرمبادلہ کمانے والی سی فوڈ انڈسٹری کشتی سازی سے لے کر سی فوڈ پراسیسنگ یونٹ تک بنیادی سہولتوں سے محروم ہے، اور اگر حکومتی ادارے گورننس بہتر بنائیں اور کرپشن کی روک تھام کریں تو فش انڈسٹری ملکی معیشت کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔
ڈپٹی کمشنر نے ماہیگیروں کو یقین دہانی کرائی کہ بحیثیت انتظامی افسر وہ ان معاملات پر ایکشن لیں گے۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











