چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ کامران خان ملاخیل: آئین کی بالادستی اور انصاف کی فراہمی مضبوط پاکستان کی بنیاد

کوئٹہ: بلوچستان ہائی کورٹ میں یومِ آزادی پاکستان کے موقع پر پروقار پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں چیف جسٹس بلوچستان ہائی کورٹ جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے عدالتِ عالیہ کے لان میں قومی پرچم لہرایا۔ تقریب میں ہائی کورٹ کے معزز ججز، افسران و اہلکاروں، وکلاء اور دیگر متعلقہ افراد نے شرکت کی۔
چیف جسٹس نے قوم کو یومِ آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ 14 اگست محض ایک تاریخی دن نہیں بلکہ ایک نظریے، عہد اور قومی ذمہ داری کی تجدید کا دن ہے۔ پاکستان ہمارے اسلاف اور زعماء کی لازوال قربانیوں، غیر متزلزل ایمان، جدوجہد اور عزم و استقلال کے نتیجے میں وجود میں آیا، اس لیے اس کی سلامتی، ترقی اور استحکام کے لیے کردار ادا کرنا ہم سب کی قومی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوم کی اصل طاقت اتحاد، باہمی اعتماد، قومی یکجہتی اور مشترکہ مقصد کے حصول میں ہے۔ قومی ترقی کی راہ میں اقربا پروری، خود غرضی اور ذاتی مفادات کے بجائے میرٹ، دیانت داری، قانون کی حکمرانی اور قومی مفاد کو ترجیح دینا ہوگی۔
پارلیمان کی بالادستی اور قانون کی حکمرانی
چیف جسٹس نے کہا کہ آزادی کے حقیقی ثمرات کے حصول اور مضبوط ریاست کی تعمیر کے لیے ہمیں بحیثیت قوم مزید کئی اہم سنگِ میل عبور کرنے ہیں۔ پارلیمان کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور آئین کی پاسداری کو ہر صورت برقرار رکھنا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے، جبکہ آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی اور انصاف کی فراہمی مضبوط پاکستان کی بنیاد ہیں۔
جسٹس محمد کامران خان ملاخیل نے کہا کہ عدلیہ عوام کو بلاامتیاز انصاف کی فراہمی کے لیے اپنی آئینی ذمہ داریاں ادا کرتی رہے گی، اور عوام کے عدلیہ پر اعتماد کو مزید مستحکم کرنے کے لیے عدالتی نظام میں موجود رکاوٹوں اور مشکلات کو دور کرنا ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے ہراول دستے کے طور پر ضلعی عدلیہ پر انصاف کی فراہمی کی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، جسے غیر جانب داری، دیانت داری اور بلاخوف و رعایت ادا کرنا ہوگا، کیونکہ عدالتوں سے رجوع کرنے والے سائلین انصاف اور ناانصافی کے ازالے کی امید لے کر آتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وکلاء، عدلیہ اور انصاف کے نظام سے وابستہ تمام طبقات اپنی ذمہ داریاں غیر جانب داری، دیانت داری اور قانون کے مطابق ادا کریں۔ قانون کی بالادستی اور آزاد عدلیہ کا بنیادی مقصد عوام کو ظلم، ناانصافی اور استحصال سے نجات دلانا اور بروقت انصاف فراہم کرنا ہے۔ انصاف صرف فیصلے صادر کرنے کا نام نہیں بلکہ معاشرے کے تمام طبقات کو ان کے حقوق کی منصفانہ فراہمی یقینی بنانے کا تقاضا کرتا ہے، اور ناانصافی کا خاتمہ اسی وقت ممکن ہے جب ہر فرد اپنے فرائض دیانت داری سے ادا کرے اور دوسروں کے حقوق پامال کرنے سے گریز کرے۔
چیف جسٹس نے عزم ظاہر کیا کہ عدلیہ آئین اور قانون کی بالادستی، بلاامتیاز انصاف کی فراہمی اور شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا آئینی کردار بھرپور انداز میں ادا کرتی رہے گی۔ تقریب کے اختتام پر پاکستان کی سلامتی، ترقی، خوشحالی، استحکام اور قومی یکجہتی کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











