پنجاب چیریٹیز کمیشن کا 26واں اجلاس: 8,345 این جی اوز سے رابطہ، خلاف ورزی پر اجازت نامہ منسوخ

لاہور: سیکرٹری داخلہ پنجاب ڈاکٹر احمد جاوید قاضی کی زیر صدارت پنجاب چیریٹیز کمیشن کا 26واں اجلاس منعقد ہوا۔
سیکرٹری ہاؤسنگ و کمشنر پنجاب چیریٹیز کمیشن نور الامین مینگل نے اجلاس میں آن لائن شرکت کی، جبکہ کمشنر پنجاب چیریٹیز کمیشن ڈاکٹر اسامہ صدیق بھی شریک ہوئے۔ چیف ایگزیکٹو آفیسر کرنل شہزاد امیر نے ادارے کی کارکردگی اور مستقبل کے پلان پر بریفنگ دی۔
بریفنگ کی تفصیلات
بریفنگ میں بتایا گیا کہ کمیشن پنجاب بھر میں این جی اوز کی استعداد کار بڑھانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے اور صوبے میں قائم 8,345 این جی اوز کے ساتھ مستقل رابطے میں ہے۔ این جی اوز کو منی لانڈرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت جیسے خطرات سے بچاؤ کی تربیت دی جا رہی ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خیراتی اداروں میں شفافیت کے فروغ اور منی لانڈرنگ و دہشت گردوں کی جانب سے این جی اوز کے غلط استعمال کی روک تھام کے لیے آڈٹ مینجمنٹ سسٹم نافذ کیا گیا ہے۔ خیراتی اداروں، منتظمین اور مستفید ہونے والوں کی نگرانی اور جوابدہی کا نظام بھی قائم ہے۔
مشکوک سرگرمی کی صورت میں متعلقہ خیراتی ادارے کی انکوائری اور آڈٹ کیا جاتا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی پر کسی بھی خیراتی ادارے کا چندہ جمع کرنے کے لیے دیا گیا اجازت نامہ منسوخ کیا جا سکتا ہے۔
خیراتی اداروں، ٹرسٹیز اور اسٹاف کو ضروری رہنمائی، تربیت اور مشاورت فراہم کی جا رہی ہے۔ کمیشن چیٹ بوٹ اور رسک بیسڈ اسسمنٹ فریم ورک پر مشتمل جامع نظام سے خیراتی اداروں کی رہنمائی کر رہا ہے۔ قانون کی خلاف ورزی کرنے والی این جی اوز کے خلاف انکوائریوں اور انفورسمنٹ ایکشنز پر بھی بریفنگ دی گئی۔
سیکرٹری داخلہ کی ہدایات
ڈاکٹر احمد جاوید قاضی نے کہا کہ پُرامن اور ہم آہنگ معاشرے کا قیام حکومتِ پنجاب کی اولین ترجیح ہے۔ پنجاب میں تمام خیراتی اداروں کی چیریٹیز کمیشن سے رجسٹریشن لازم ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اور سول سوسائٹی کے درمیان باہمی اعتماد، شفافیت اور اشتراک پر مبنی تعلقات ناگزیر ہیں۔ کمیشن خیراتی اداروں پر عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مصروفِ عمل ہے۔
سیکرٹری داخلہ نے تنبیہ کی کہ خیراتی اداروں اور مستحقین کے حقوق اور مفادات کا تحفظ کمیشن کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ تمام خیراتی ادارے خیراتی فنڈز کے استعمال میں قوانین کی پاسداری یقینی بنائیں، اور کمیشن بطور ریگولیٹر ذمہ داریاں ادا کرنے کے ساتھ خیراتی اداروں کی سہولت اور رہنمائی کے لیے اقدامات جاری رکھے۔











