رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 21° جزوی بادل 22° / 11°فجر 05:28ظہر 12:16عصر 16:05مغرب 17:41عشا 19:03
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایڈیٹر: کامران جاوید
لوئر چترال پولیس کی منشیات کے خلاف کمیونٹی مہم کے حوصلہ افزا نتائجاے این پی کا صوبائی اجلاس، امن و امان پر تشویش اور جلسے کی تیاریوں کا جائزہشانگلہ میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ، کاروبار اور معمولات زندگی مفلوجبیکن ہاس کینال سائیڈ میں جونیئر بچوں کا سپورٹس گالا منعقدآر پی او ملاکنڈ زاہد نواز مروت کا شانگلہ کا دورہ، شجرکاری اور ترقیاتی کاموں کا معائنہپاکستان، سری لنکا پہلے ٹیسٹ کے ٹکٹ جمعہ سے فروخت ہوں گےمدینہ منورہ پر حوثی حملے کی علما کونسل کی شدید مذمتاکتوبر میں 5 ہزار سے زائد نئی کمپنیاں رجسٹر، کل تعداد 3 لاکھ 21 ہزار سے تجاوزکشمیر چوک انڈر پاس 27 دن میں مکمل، وزیراعظم کی تقریب سے خطابقومی کرکٹرز کو افغانستان پریمئر لیگ کے لیے این او سی نہیںبھارتی سموگ پاکستان سمیت خطے کی فضا کو زہر آلود کرنے لگیآر پی او زاہد نواز مروت کا شانگلہ میں امن و امان پر زور

وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی

وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دے دی

وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت تجارت میں سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اہم اجلاس ہوا، جس میں وزیراعظم نے ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ کے قیام کی منظوری دی، وزیراعظم خود بورڈ کی صدارت کریں گے۔

اجلاس میں بتایا گیا کہ مجوزہ ٹریڈ فیسلیٹیشن بورڈ تجارت کی مکمل سپلائی چین میں بہتری لانے اور سرحد پار تجارت سے متعلق تمام نان ٹیرف امور پر فیصلے کرے گا۔

بورڈ تجارت کے فروغ کے لیے روڈ میپ، ٹریڈ فیسلیٹیشن انڈیکس اور مانیٹرنگ کے حوالے سے حکمت عملی بھی ترتیب دے گا۔

وزیراعظم نے ملک کی بندرگاہوں کی استعداد کار میں بہتری کے لیے ہنگامی بنیادوں پر کام کرنے اور اس مقصد کے لیے مختلف ورکنگ گروپس تشکیل دینے کی ہدایت کی۔

ورکنگ گروپس بندرگاہوں کی استعداد کار بہتر بنانے، متعلقہ محکموں کے درمیان ہم آہنگی کے فروغ، ریگولیٹری فریم ورک کی تعمیل، پری ارائیول کلیئرنس اور بین الاقوامی تجارت میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی شمولیت سے متعلق امور پر کام کریں گے۔

وزیراعظم نے درآمد کنندگان اور برآمد کنندگان کے لیے بندرگاہوں پر مال کی ترسیل، کلیئرنس اور دیگر امور کو آسان بنانے اور زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کرنے کی بھی ہدایت کی۔

اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ جاری اصلاحات کے تحت پورٹ چارجز میں کمی کی گئی ہے، جس کے بعد بندرگاہوں کے استعمال میں نمایاں بہتری آئی ہے، بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ جہازوں کی آمد سے قبل گڈز ڈیکلریشن جمع کرانے کی سہولت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

اجلاس میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر بحری امور جنید انور چوہدری، مشیر وزیراعظم برائے صنعت ہارون اختر، وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی اور متعلقہ اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔

موضوعات:
اشتہار