رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًا اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسے انہوں نے بچپن میں مجھے پالا بنی اسرائیل ۲۴
کوئٹہ 22° صاف 24° / 12°فجر 05:18ظہر 12:16عصر 16:17مغرب 17:54عشا 19:14
بلوچستان کی آواز، اکتوبر 1970 سےکوئٹہ سے شائع ہونے والا روزنامہ · ایڈیٹر انچیف: جاوید احمد · ایگزیکٹو ایڈیٹر: کامران جاوید
محسن نقوی: پاکستان نے خطے میں امن اور مذاکرات کے لیے ہمیشہ کلیدی کردار ادا کیافیصل واوڈا: عمران خان بانی ایم کیو ایم کی سیاست سے بھی 100 فیصد آگے نکل گئےعامر لیاقت کی ویڈیوز وائرل کرنے کا مقدمہ: دانیہ شاہ کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاریپاکستان کی باؤلنگ اور فیلڈنگ شاندار رہی، جلد وکٹیں گنوانے سے نقصان ہوا: ہیری بروکنیتن یاہو نے ایران پر بڑے حملے کی منصوبہ بندی کی ہدایت کی تھی، برطانوی میڈیا کا دعویٰامریکا ناکہ بندی اور دھمکیوں کے ساتھ مذاکرات کی توقع نہیں کر سکتا: ایرانی صدر پزشکیانپیوٹن اور وٹکوف کی ملاقات: سہ فریقی مذاکرات نومبر کے وسط میں بحال کرنے پر غورزیلنسکی: موجودہ علاقائی صورتحال برقرار رکھنے والا امن معاہدہ قبول کرنے کو تیار ہیںکراچی میں 20 کلو آٹے کا تھیلا 3540 روپے کا، ملک بھر میں سب سے مہنگاوزیراعظم شہباز شریف کا آج دورۂ پشاور متوقع، امن و امان اجلاس کی صدارت اور 12 اضلاع کے لیے وژن کا اعلان کریں گےپی ٹی آئی اور حکومت کے مذاکرات چند دنوں میں دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں: عامر ڈوگرپی ٹی آئی میں اختلافات: سلمان اکرم راجہ کی پوسٹ پر علی امین گنڈاپور اور ارکان اسمبلی کے تحفظات

وزارت مواصلات میں مالی سال 2022-23 کے دوران 222 ارب روپے سے زائد بے ضابطگیوں کا انکشاف

وزارت مواصلات میں مالی سال 2022-23 کے دوران 222 ارب روپے سے زائد بے ضابطگیوں کا انکشاف
فائل فوٹو: وزارت مواصلات پاکستان — تصویر: بشکریہ samaa.tv

اسلام آباد: وزارت مواصلات میں 222 ارب روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف سامنے آیا ہے۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق یہ بے قاعدگیاں مالی سال 2022-23 میں وزارت مواصلات کے معاملات سے متعلق رپورٹ کی گئیں۔

دھوکہ دہی اور بھرتیوں میں بے قاعدگیاں

رپورٹ کے مطابق دھوکہ دہی، چوری اور ڈکیتی کے 40 کیسز میں 4 کروڑ 88 لاکھ روپے جبکہ بھرتیوں سے متعلق 4 کیسز میں 2 ارب 73 کروڑ روپے کی بے قاعدگیاں سامنے آئیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ پاکستان پوسٹل سروسز میں خالی آسامیوں پر بھرتیوں کی اجازت دی گئی۔ نگران دور میں گریڈ ایک سے 15 تک 4 ہزار 252 بھرتیاں کی گئیں اور 314 افراد کو قواعد کے برعکس سیاسی بنیادوں پر بھرتی کیا گیا۔

خزانے کو نقصان

آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا کہ خریداری کے 5 کیسز میں خزانے کو 3 ارب 26 کروڑ روپے سے زائد نقصان پہنچا، جبکہ کمرشل بینک سے غیر مجاز انتظامی معاملات میں 20 ارب 85 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

رپورٹ کے مطابق پاکستان پوسٹ نے مقررہ تعداد سے زیادہ اکاؤنٹس کھولے اور ان اکاؤنٹس میں 20 ارب روپے کی ٹرانزیکشنز ہوئیں۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق ایک اور کیس میں خزانے کو 49 کروڑ 25 لاکھ روپے نقصان پہنچا۔ 11 مختلف کیسز میں 3 ارب 74 کروڑ روپے سے زائد وصولیوں کی نشاندہی ہوئی، جبکہ 15 دیگر کیسز میں 194 ارب 54 کروڑ روپے سے زائد مالی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا۔