سینیٹ میں غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل پیش، حکومت کی مخالفت، کمیٹی کے سپرد

اسلام آباد: ایوان بالا میں غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل پیش کر دیا گیا۔ سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے یہ بل پیش کیا، جسے ایوان نے متعلقہ قائمہ کمیٹی کے سپرد کر دیا۔
بل پیش کرتے ہوئے ثمینہ ممتاز زہری نے کہا کہ 2019 میں سپریم کورٹ نے جرگہ اور پنچایت کو ختم کر دیا تھا۔ ان کے مطابق جن لوگوں کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، وہ بعد میں معصوم ثابت ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ بل میں ایسا کچھ نہیں ہے جس پر حکومت کی مخالفت بنتی ہو۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ریپ کے قوانین میں کتنی ترامیم ہوئیں، مگر کیا ریپ کم ہوئے؟
سینیٹر ثمینہ ممتاز زہری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کہتی ہے اس مسئلے پر بل لائیں گے، جب لوگ مر جائیں گے تب حکومت بل لائے گی۔
حکومت کا مؤقف
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے بل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام بل 2026 کی حکومت مخالفت کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والوں سے متعلق عدالت پہلے ہی راضی نامہ نہیں مانتی۔
ان کا کہنا تھا کہ قانون بناتے ہوئے قانون دانوں کو بہت احتیاط برتنی چاہیے۔ ان کے مطابق بل میں جو ترامیم آئی ہیں وہ موجودہ قانون کو پیچیدہ کر رہی ہیں۔ سزائیں نہ ملنے کی وجہ دوران تفتیش اور شہادت دیتے ہوئے خامیاں ہیں۔
وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا کہ اس بل پر وزارت قانون سے متعلق بات چیت کر لیں تو کمی پیشی دیکھ لیں گے۔
اجلاس میں بل پر تفصیلی بحث کے بعد اسے قائمہ کمیٹی کے حوالے کر دیا گیا۔











