جرمنی میں حملوں کی سازش: ایرانی سفارت خانے نے ہیمبرگ عدالت کا فیصلہ مسترد کر دیا

برلن: جرمنی میں ایرانی سفارت خانے نے ہیمبرگ کی عدالت کے اس فیصلے کو مسترد کر دیا ہے جس میں جرمنی میں یہودی اور اسرائیل نواز شخصیات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں ایرانی انٹیلیجنس سروس کے تعلق کا ذکر کیا گیا تھا۔ سفارت خانے نے فیصلے کو غیر معتبر قرار دیا ہے۔
غیرملکی میڈیا کے مطابق سفارت خانے نے تہران کے خلاف الزامات کو بے بنیاد قرار دیا اور مغرب کے اس طرزِ عمل پر تنقید کی جسے اس نے دوہرا معیار کہا۔ سفارت خانے کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے خلاف سیاسی مہم کا حصہ ہے۔
عدالت کا فیصلہ
جمعرات، 13 اکتوبر کو ہیمبرگ کی اعلیٰ علاقائی عدالت نے ایران کے لیے جاسوسی کی سرگرمیوں اور جرمنی میں یہودی اور اسرائیل نواز شخصیات پر حملوں کی منصوبہ بندی میں شرکت کے الزام میں دو افراد کو قید کی سزائیں سنائیں۔
عدالتی فیصلے کے مطابق ڈنمارک کے شہری علی ایس کو آٹھ سال اور چھ ماہ، جبکہ افغان شہری تواب ایم کو چار سال اور چھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی۔
ججوں نے کہا کہ علی ایس کو ایرانی انٹیلیجنس سروس نے بھرتی کیا تھا اور وہ جرمنی میں پرتشدد کارروائیوں کے لیے اس کی ہدایات پر کام کر رہے تھے۔
منصوبے کے ممکنہ اہداف میں جرمنی میں یہودیوں کی مرکزی کونسل کے صدر جوزف شوسٹر اور جرمن اسرائیلی ایسوسی ایشن کے صدر فولکر بیک شامل تھے۔
جرمنی کے وزیر خارجہ یوہان واڈے فل نے بھی جمعے کو ہیمبرگ کی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یورپ ایران کے نشانے پر ہے۔ انھوں نے کہا کہ جرمنی یہودیوں اور ملک کے دیگر شہریوں کے خلاف کسی بھی قسم کی کارروائیوں کو برداشت نہیں کرے گا۔











