بلوچستان اسمبلی اجلاس: تعمیر نو یونیورسٹی، فشریز اور وسل بلوور پروٹیکشن سمیت متعدد مسودہ قوانین پیش

کوئٹہ: بلوچستان اسمبلی کے 5 ستمبر کو منعقدہ اجلاس میں متعدد مسودہ قوانین اور ایک مشترکہ قرارداد پیش کی گئی، جبکہ اجلاس میں گزشتہ روز زیارت میں شہید ہونے والے سیکیورٹی فورسز کے جوانوں کے لیے دعائے مغفرت بھی کی گئی۔
صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید خان درانی نے تعمیر نو یونیورسٹی کوئٹہ کا مسودہ قانون، صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بلوچستان سٹیزن فیسیلیٹیشن اینڈ گڈ گورننس کا مسودہ قانون، اور صوبائی مشیر ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے بلوچستان فشریز اینڈ ایکوا کلچر کا مسودہ قانون پیش کیا۔
پارلیمانی سیکرٹری سیاحت و ثقافت نوابزادہ زرین خان مگسی نے بلوچستان پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کا مسودہ قانون اور بلوچستان رائٹ ٹو انفارمیشن کا ترمیمی مسودہ قانون پیش کیا، جبکہ پارلیمانی سیکرٹری ایس اینڈ جی اے ڈی حاجی عبدالمجید بادینی نے بلوچستان وسل بلوور پروٹیکشن کا مسودہ قانون پیش کیا۔ پارلیمانی سیکرٹری سنجے کمار پنجوانی نے مشترکہ قرارداد پیش کی۔
اسپیکر بلوچستان صوبائی اسمبلی کیپٹن (ر) عبدالخالق اچکزئی کی زیر صدارت اجلاس میں صوبائی وزراء حاجی نور محمد دمڑ، میر ضیاء اللہ لانگو، میر شعیب نوشیروانی، حاجی علی مدد جتک، راحیلہ حمید خان درانی، میر صادق عمرانی، پارلیمانی سیکرٹریز سنجے کمار پنجوانی، حاجی عبدالمجید بادینی، حاجی محمد خان لہڑی اور اراکین اسمبلی ڈاکٹر اشوک کمار، میر یونس عزیز زہری، میر رحمت صالح بلوچ اور حاجی اصغر خان ترین نے پیش کی گئی قراردادوں پر اظہار خیال کیا۔
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد حمزہ شفقات اور دیگر اعلیٰ حکام نے اسمبلی اجلاس کی کارروائی دیکھی۔



تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











