بارکھان میں بجلی کی فراہمی میں دو گھنٹے اضافے کا فیصلہ، صارفین کو قانونی میٹر لگوانے کی ہدایت

بارکھان: ڈپٹی کمشنر بارکھان سعید الرحمٰن کاکڑ کی زیرِ صدارت بارکھان میں بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے مسئلے کے حل کے لیے آل پارٹیز رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں واپڈا لورالائی سرکل کے ایکسین اور متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔
اجلاس میں جاری طویل لوڈشیڈنگ، بجلی کی فراہمی اور غیر قانونی کنکشنز پر تفصیلی غور کیا گیا اور فیصلہ کیا گیا کہ بارکھان میں بجلی کی فراہمی کے دورانیے میں مزید دو گھنٹے اضافہ کیا جائے گا، جس سے لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوگا۔
واپڈا حکام نے بتایا کہ جن نئے صارفین، مکان مالکان اور دکانداروں کے پاس قانونی بجلی میٹر نہیں، وہ جلد از جلد نئے میٹر لگوائیں، اور غیر قانونی کنکشنز کے خاتمے کے ساتھ قانونی کنکشن فراہم کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔
دو ماہ بعد دوبارہ جائزہ
طے پایا کہ دو ماہ بعد دوبارہ جائزہ اجلاس ہوگا، اور اگر اس دوران قانونی نئے میٹروں کی تعداد میں خاطر خواہ اضافہ ہوا تو بجلی کی فراہمی میں مزید بہتری اور لوڈشیڈنگ میں مزید کمی کے اقدامات کیے جائیں گے۔ ڈپٹی کمشنر نے صارفین پر زور دیا کہ وہ غیر قانونی کنکشنز سے گریز کریں اور اپنے کنکشن قانونی طور پر باقاعدہ کروائیں تاکہ بجلی چوری کی روک تھام کے ساتھ لوڈشیڈنگ میں مزید کمی لائی جا سکے۔
اجلاس میں بلوچستان نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر صدیق کھیتران، نیشنل پارٹی کے رہنما میر عبدالکریم کھیتران، پاکستان تحریک انصاف کے ضلعی صدر حاجی میر طارق کھیتران، جمعیت علمائے اسلام (ف) کے ضلعی جنرل سیکرٹری تاج محمد قاسمانی، سول سوسائٹی کے نمائندے وڈیرہ غلام سرور، حنیف ناہڑ، وڈیرہ حیات خان جہانانی، گل زمان، وڈیرہ عبدالغفار کھیتران، ایکسین واپڈا لورالائی سرکل رحیم اللہ کبزئی، ایس ڈی او عبدالغفار حسنی، ایس ڈی او نصیب خان حمزہ زئی اور اسسٹنٹ کمشنر بارکھان احسان الدین کاکڑ نے شرکت کی۔
تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











