الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا عمل تاحکم ثانی روک دیا

اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن آف پاکستان نے خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کا جاری عمل مزید احکامات تک روکنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ جمعرات کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں صوبے میں بلدیاتی انتخابات کی موجودہ صورتحال اور وفاقی حکومت کے نئے حکم نامے کے اثرات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔
الیکشن کمیشن کے مطابق وفاقی حکومت نے 4 نومبر کو جاری کیے گئے حکم نامے کے ذریعے خیبر پختونخوا میں آئین کے آرٹیکل 140-A کو معطل کر دیا ہے۔ یہ آرٹیکل صوبوں میں مقامی حکومتوں کے قیام سے متعلق ہے۔ اسی آرٹیکل کی ذیلی شق 2 کے تحت مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کی آئینی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر عائد ہوتی ہے۔ یوں اس آرٹیکل کی معطلی کا براہ راست تعلق اس عمل سے بنتا ہے جس کی نگرانی کمیشن کے سپرد ہے۔
اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ وفاقی حکومت کے نئے حکم نامے کا اطلاق ان اضلاع کے علاوہ، جن کا پہلے سے تعین کیا جا چکا تھا، خیبر پختونخوا کے دیگر تمام اضلاع پر بھی کر دیا گیا ہے۔ اس طرح حکم نامے کا دائرہ پورے صوبے تک پھیل گیا۔ اجلاس میں شرکا نے آرٹیکل 140-A کی معطلی سے بلدیاتی انتخابات پر پڑنے والے اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔
الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے اس حکم نامے کی وجہ سے صوبے کے باقی اضلاع میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں رہا۔ اسی بنیاد پر کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں اب تک کیے گئے تمام اقدامات روکنے کا فیصلہ کیا اور انتخابی عمل کو تاحکم ثانی معطل کر دیا۔
ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق وفاقی حکومت کے حکم نامے کے باعث صوبے میں بلدیاتی انتخابات کرانا ممکن نہیں رہا، اس لیے انتخابی عمل مزید احکامات تک معطل رہے گا۔ کمیشن کی جانب سے فی الحال انتخابات کی نئی تاریخ یا آئندہ لائحہ عمل کے بارے میں کوئی اعلان سامنے نہیں آیا۔











