گوادر ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی: غیر حاضر طبی عملے کے خلاف کارروائی، بغیر لائسنس میڈیکل اسٹور سیل کرنے کی ہدایت

گوادر: ڈپٹی کمشنر نقیب اللہ کاکڑ کی ہدایت پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو ظہور احمد بلوچ کی زیرِ صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ضلع بھر میں صحتِ عامہ کی صورتحال، طبی سہولیات کی فراہمی، ادارہ جاتی کارکردگی اور درپیش مسائل کے حل سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں ضلعی آفیسر صحت ڈاکٹر یاسر، میر عبدالغفور ٹیچنگ ہسپتال کے نمائندہ ڈاکٹر جنبد بلوچ، ڈپٹی ڈی ایچ او ڈاکٹر فاروق بلوچ، سی ای او جی ڈی اے ہسپتال ڈاکٹر ناصر شیخ، ایکسین واپڈا، ڈسٹرکٹ منیجر پی پی ایچ آئی ڈاکٹر مرشد دشتی، ڈپٹی سی ای او عمانی گرانٹ ہسپتال ڈاکٹر حمید بلوچ اور ڈرگ انسپکٹر سمیت دیگر متعلقہ محکموں کے نمائندوں اور اسٹیک ہولڈرز نے شرکت کی۔
اجلاس میں صحت کے شعبے کو درپیش چیلنجز، ہسپتالوں اور بنیادی مراکزِ صحت میں دستیاب سہولیات، طبی آلات، ادویات کی فراہمی، انسانی وسائل اور عوام کو معیاری طبی خدمات کی فراہمی سے متعلق مختلف ایجنڈا نکات اور صحت کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی تجاویز زیرِ غور آئیں۔
حاضری یقینی بنانے اور ڈینگی مہم جاری رکھنے پر زور
اجلاس میں بتایا گیا کہ تمام طبی مراکز میں ڈاکٹروں اور عملے کی حاضری یقینی بنائی جائے اور غیر حاضر افسران و ملازمین کے خلاف قواعد و ضوابط کے مطابق سخت محکمانہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔ غیر حاضر طبی عملے کے خلاف ڈسپلنری ایکشن اور تنخواہوں میں کٹوتی سے متعلق امور پر بھی غور کیا گیا۔
حالیہ انسدادِ ڈینگی مہم کا جائزہ لیتے ہوئے بریفنگ میں بتایا گیا کہ ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت کی مشترکہ کاوشوں سے ضلع بھر میں ڈینگی وائرس کے تدارک کے لیے مؤثر اسپرے مہم چلائی گئی، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور موجودہ صورتحال تسلی بخش ہے۔ انسدادِ ڈینگی سرگرمیوں کو تسلسل سے جاری رکھنے اور عوامی آگاہی مہم کو مزید مؤثر بنانے پر زور دیا گیا۔
اجلاس میں کہا گیا کہ معیاری طبی خدمات کی فراہمی کو مزید مؤثر بنایا جائے گا تاکہ ضلع کے تمام شہریوں کو بہتر صحت کی سہولیات میسر آ سکیں۔
ڈرگ انسپکٹر نے ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع بھر کے تمام میڈیکل اسٹورز لائسنس یافتہ ہیں۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی کہ میڈیکل اسٹورز کی جانچ کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے، اور جو میڈیکل اسٹور بغیر لائسنس پایا جائے اس کے خلاف کارروائی کر کے اسے فوری طور پر سیل کیا جائے۔

تصویر: بشکریہ ڈی جی پی آر بلوچستان











