امریکی فوج کی ایران کے خلاف ممکنہ کارروائی کے لیے تیاریاں تیز، مشرقِ وسطیٰ میں کمک کی تیاری

واشنگٹن: امریکی فوج نے ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے ممکنہ فیصلے کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی تیاریاں مکمل کرنا شروع کر دی ہیں۔ اس مقصد کے لیے مشرقِ وسطیٰ میں مزید فوجی وسائل اور عسکری سازوسامان بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ یہ خبر آن لائن کے ذریعے 5 نومبر 2026 کو سامنے آئی۔
امریکی خبر رساں ویب سائٹ ایگزیوس نے امریکی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ پینٹاگون نے امریکی فوج کو ہدایت دی ہے کہ وہ ایران کے خلاف ممکنہ کارروائیوں کے لیے تیار رہے۔ ان تیاریوں میں خطے میں اضافی فوجی اثاثوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس پیش رفت کا یہ مطلب نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف دوبارہ جنگ شروع کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ تاہم امریکی فوج کسی بھی ممکنہ آپریشن کے لیے اپنی تیاری پوری کر رہی ہے تاکہ حکم ملنے کی صورت میں فوری عمل کیا جا سکے۔
ایگزیوس نے لکھا ہے کہ اگر کارروائیاں دوبارہ شروع ہوئیں تو ان میں بڑے پیمانے پر فضائی حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ممکنہ اہداف میں ایران کی جوہری تنصیبات، توانائی کے مراکز اور اہم بنیادی ڈھانچہ شامل ہو سکتا ہے۔ رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ ایسی کسی کارروائی میں اسرائیلی فوج بھی حصہ لے سکتی ہے۔
اس وقت یہ تمام باتیں امکانات کی حد تک ہیں اور امریکی قیادت کی جانب سے کسی نئے فوجی آپریشن کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔ یہ تیاریاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، جبکہ سفارتی رابطوں کے ذریعے تنازع حل کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ فوجی تیاریوں کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔











